جدید دور میں کسی بھی ریاست کے استحکام اور اس کے دیرپا وجود کی سچی دلیل وہ قلبی تعلق ہے جو عام شہری اور ریاستی اداروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جب ریاست کا نظام عام انسان کے دکھ درد کو اپنا سمجھے اور اس کے روزمرہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مستعد دکھائی دے، تو قومی یکجہتی کے بندھن خودبخود فولاد کی طرح مضبوط ہو جاتے ہیں۔ وطنِ عزیز میں دہائیوں سے طرزِ حکمرانی کے حوالے سے ایک مسلسل اضطراب موجود رہا ہے، اور سنجیدہ فکر کے حامل حلقے اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اس بحران کی بنیادی جڑ کسی خطے کی جغرافیائی سرحدیں نہیں، بلکہ فیصلوں اور وسائل کا چند مراکز میں حد سے زیادہ سمٹ جانا ہے۔ یہ شدید انتظامی مرکزیت نچلی سطح پر ترقی کی راہ میں ایک ایسی رکاوٹ بن چکی ہے جس نے مقامی اداروں کو بے اثر کر رکھا ہے۔
اس تعطل کو توڑنے اور گڈ گورننس کو کتابی باتوں سے نکال کر زمینی حقیقت بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ انتظامی اور مالیاتی اختیارات کی منتقلی اضلاع اور تحصیلوں کی سطح تک کی جائے۔ ریاست اور شہری کا عمرانی رشتہ چار بنیادی ستونوں پر قائم ہے: اراضی کے معاملات اور ضروری دفتری اسناد کا بروقت اور باوقار اجرا، معیاری اسکولوں اور اعلیٰ تعلیمی کالجز کا ہر بستی میں فعال ہونا، قریبی ہسپتالوں میں لائف سیونگ ایمرجنسی اور ماہر ڈاکٹروں کی ہمہ وقت دستیابی، اور مقامی سطح پر بلا تاخیر، سستے اور شفاف قانونی انصاف کی فراہمی۔ جب یہ چاروں بنیادی خدمات شہری کو اس کی اپنی تحصیل کے دائرے میں مل جائیں گی، تو نہ کسان کو اپنی زمین کی حفاظت کے لیے دفاتر کے دھکے کھانے پڑیں گے اور نہ والدین کو اپنے بچوں کے علاج اور تعلیم کی خاطر دور دراز میٹروپولیٹن شہروں کی مہنگی مسافتیں کاٹنی پڑیں گی، جس سے بڑے شہروں کے وسائل پر پڑنے والا غیر فطری بوجھ بھی قدرتی طور پر متوازن ہو جائے گا۔اس بڑے اور تاریخی انتظامی اقدام کو سیاسی سودے بازی اور علاقائی منافرت سے بالاتر رکھنے کا سب سے زیادہ پُرامن، جمہوری اور باوقار ذریعہ ریفرنڈم کا انعقاد ہے۔ جب براہِ راست عوامی رائے کے ذریعے ان انتظامی اصلاحات کی توثیق ہوگی، تو عام شہری کے دل میں یہ یقین جاگے گا کہ نظام کی سمت اس کے اپنے ووٹ اور مرضی سے طے ہوئی ہے۔ یہ جمہوری شفافیت عوام میں ریاستی ملکیت کا گہرا شعور بیدار کرے گی اور ہر قسم کے انتشار پسند بیانیے کے آگے ایک ناقابلِ تسخیر بند باندھ دے گی۔البتہ اس پورے ماڈل کی روح ایک سخت، بے لاگ اور شفاف ادارہ جاتی احتساب کے نظام سے وابستہ ہے۔ اختیارات اور ترقیاتی بجٹ جب تحصیلوں کے سپرد کیے جائیں تو اس کے ساتھ ساتھ افسران کی کارکردگی کے سخت پیمانے، فنڈز کا شفاف آڈٹ اور بروقت سروس ڈلیوری کی کڑی نگرانی بھی ناگزیر ہے۔ احتساب کا یہ کڑا عمل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ قومی وسائل کا ہر روپیہ بلا کم و کاست عام آدمی کے آنگن میں خوشحالی اور آسانی لانے کے لیے ہی صرف ہو۔
ریاست کا وقار ایوانوں کے جاہ و جلال سے نہیں، بلکہ اس اطمینان سے ماپا جاتا ہے جو دور دراز بیٹھے ایک محنت کش کے چہرے پر کھلتا ہے۔ جب پینے کا صاف پانی، فعال درسگاہ، شفا بخش اسپتال، مستعد پولیسنگ اور تیز رفتار دفتری انصاف بغیر سفارش اور رشوت کے ہر دروازے تک پہنچ جائے گا، تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہمیشہ کے لیے ناقابلِ شکست ہو جائے گا۔ یہی وہ مثبت، تعمیری اور دور اندیش لائحہ عمل ہے جو پاکستان کی داخلی سلامتی کو ناقابلِ تسخیر بنا کر ایک باوقار اور تابناک مستقبل کی راہ ہموار کرے گا۔







