ملتان (قوم ریسرچ سیل)ملتان سمیت میپکو ریجن میں ڈیجیٹل میٹر ریورس کرنے والے جدید ’’سائنسدانوں‘‘ کے گینگزکا انکشاف،میٹر کھولنے، چِپ لگانے اور ریموٹ کی ضرورت ختم، موبائل سے ریڈنگ ریورس ہونے لگی۔ڈیجیٹل میٹرز میں آئی ٹی ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی چوری کا نیا طریقہ سامنے آیاہے۔موسیٰ پاک ڈویژن کا ڈیجیٹل میٹر ریورس کیس بھی مبینہ طور پر دب گیا،میپکو کو ہرماہ کروڑوں روپے کا نقصان، بوجھ عام صارفین پر ڈیٹیکشن بلز کی صورت میں؟ڈیجیٹل میٹر ریورس کرنے والے گروہوں کے بااثر روابط کا دعویٰ، کارروائیاں بے اثر ہوگئیں۔ذرائع کے مطابق ملتان سمیت میپکو ریجن میں بجلی کے ڈیجیٹل میٹرز کی ریڈنگ ریورس کرنے والے جدید گروہوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ماضی میں ڈیجیٹل میٹرز کھول کر ان میں مخصوص چِپ نصب کی جاتی تھی اور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ہزاروں بلکہ لاکھوں یونٹس ریورس کیے جاتے تھے، تاہم اب مبینہ طور پرجدید ٹیکنالوجی سے لیس گروہ میٹر کھولے بغیر اور ریموٹ کے استعمال کے بغیر ہی ریڈنگ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں ڈیجیٹل میٹرز میں چِپ لگا کر ریڈنگ ریورس کرنے والے متعدد گروہ پکڑے گئے، جن میں گھریلو، کمرشل، صنعتی اور ٹیوب ویل صارفین بھی شامل تھے۔ تاہم کئی مقدمات میں کارروائیاں آگے نہ بڑھ سکیں اورکیسز مبینہ طور پر سفارش و دیگر اثرورسوخ کے باعث دب گئے۔اب ایک نئے طریقہ واردات کا انکشاف ہوا ہے جس میں مبینہ طور پر مخصوص سافٹ ویئر استعمال کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جس سنگل فیز،تھری فیزودیگرکیٹگری میٹر کی ریڈنگ تبدیل کرنی ہو، پہلے اس کی آئی ڈی تیار کی جاتی ہے، جس کے بعد متعلقہ میٹر کے قریب جا کر موبائل فون کے ذریعے رات اس کی ریڈنگ میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا جاتا ہے۔ حیران کن طور پر اس طریقہ کار میں نہ میٹر کھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ ہی روایتی ریموٹ کنٹرول استعمال کیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ قبل موسیٰ پاک ڈویژن میں بھی ڈیجیٹل میٹر ریورس کرنے والا ایک مبینہ گروہ پکڑا گیا تھا۔ میپکو انتظامیہ کی جانب سے اس کارروائی کا ہینڈ آؤٹ، تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی گئی تھیں، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں سفارش اور مبینہ مالی اثرورسوخ کے باعث معاملہ دبا دیا گیا اور کارروائی زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل میٹرز کی ریڈنگ میں مبینہ ردوبدل کرنے والے گروہ اعلیٰ سطح پر منظم انداز میں کام کرتے ہیں اور بعض بااثر افراد سے روابط بھی بتائے جاتے ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائی کرنا متعلقہ اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔بجلی چوری کے ایسے طریقوں سے میپکو کو مبینہ طور پر کروڑوں، اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام اور بے قصور صارفین پر ڈیٹیکشن بلز کی صورت میں منتقل کیاجاتا ہے۔ عوامی حلقوں نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری، چیف ایگزیکٹو میپکو انجینئر جام گل محمدزاہد اور دیگر اعلیٰ حکام سے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لینے اور ڈیجیٹل میٹر ریورس کرنے والے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔عوامی حلقوں نے ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل میٹرز میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مبینہ ردوبدل کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔اس حوالے سے میپکو ترجمان کا موقف جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔







