ملتان چیمبر الیکشن: ووٹر کی عزت کا نیا باب، فرینڈز گروپ کا انقلابی کردار

ملتان شہر، جو اپنی تاریخی اہمیت اور کاروباری شناخت کے لیے جانا جاتا ہے، آج ایک ایسے الیکشن کا گواہ ہے جو محض چیمبر آف کامرس کی نشستوں کا تعین نہیں کر رہا، بلکہ شہر کی کاروباری سیاست میں ایک نئی روایت کی بنیاد ڈال رہا ہے۔ شہر کے ہر چوک، بازار، گلی، دفتر اور مارکیٹ میں چیمبر کے الیکشن پر اتنی شدت سے گفتگو ہو رہی ہے کہ یہ منظر عام انتخابات سے بھی زیادہ گرم نظر آتا ہے۔ اس الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار ووٹر کو مرکزیت حاصل ہے، اور اس کا سب سے بڑا کریڈٹ فرینڈز گروپ کو جاتا ہےجس نے ووٹ کو عزت اور وقار دلوانے کا بیڑا اٹھایا ہے اور عملی طور پر اسے چیمبر کی سیاست کا محور بنا دیا ہے۔
اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو چیمبر آف کامرس ملتان کے انتخابات بیشتر روایتی حلقوں میں طے پاتے آئے ہیں، جہاں ووٹر کی رائے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ مگر فرینڈز گروپ نے اس دقیانوسی روایت کو توڑتے ہوئے پہلی مرتبہ ووٹر کو ایک فیصلہ کن اور بااختیار شخصیت قرار دیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے منشور میں شفافیت اور احتساب کو ترجیح دی بلکہ عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ہر کاروباری شخصیت تک اپنا پیغام پہنچایا کہ “آپ کا ووٹ ہی آپ کی آواز ہے”۔ یہی وجہ ہے کہ چیمبر کی تاریخ میں دوسری مرتبہ انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے، اور یہ منظر فرینڈز گروپ کی جدوجہد کا ثمر ہے۔فرینڈز گروپ کی اس حکمت عملی کا اثر اتنا گہرا ہوا کہ فاؤنڈر گروپ جسے کبھی اقتدار خود بخود وراثت میں ملتا تھا، اب پہلی مرتبہ اپنے گڑھ سے نکل کر بازاروں، مارکیٹوں اور کاروباری دفاتر کا چکر لگانے پر مجبور ہو گیا۔ فاؤنڈر گروپ کے امیدوار، جو کبھی اندرونی حلقوں میں فیصلے کرتے تھے، آج عام ووٹرز کے سامنے ہاتھ پھیلائے نظر آ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی خود فرینڈز گروپ کی کامیابی کا آئینہ ہے کہ انہوں نے ووٹر کو اتنا باشعور اور باوقار بنا دیا کہ مخالف گروپ کو اپنی بقا کے لیے عوامی سطح پر کمپین کرنا پڑ رہی ہے۔
گزشتہ دنوں دونوں گروپوں کی جانب سے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کے اعزاز میں عشائیہ جات کا اہتمام کیا گیا، جو اس الیکشن کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ تاہم ان عشائیہ جات میں فرینڈز گروپ کا پلڑا بھاری نظر آیا۔ فرینڈز گروپ کے عشائیہ میں شرکت کرنے والے افراد کی بے پناہ تعداد اور ان کے جوش و خروش نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ وہاں موجود نوجوان کاروباری افراد، تاجر برادری کے بزرگ، اور مارکیٹ کے معروف نام—سب نے ایک نئی توانائی کے ساتھ شرکت کی۔ اس گرم جوشی سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ لوگ فرینڈز گروپ کے اس کلچر سے جڑ چکے ہیں جس میں ووٹر کو کوئی معمولی ہستی نہیں، بلکہ چیمبر کا سب سے قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب فاؤنڈر گروپ کی دن رات کی کمپین بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انہیں اپنی موجودہ پوزیشن کھونے کا خوف لاحق ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو فاؤنڈر گروپ ہمیشہ اپنے اثر و رسوخ کے بل بوتے پر کامیاب رہا، لیکن اس بار وہ پہلی مرتبہ اپنی بقا کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔ بازاروں اور دفاتر میں ان کی ٹیموں کی آمدورفت اور وعدوں کی بھرمار اس بات کی غماز ہے کہ فرینڈز گروپ نے انہیں ایک سخت چیلنج دے دیا ہے۔
اگر اس الیکشن کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ محض گروپوں کی کشمکش نہیں، بلکہ اصولوں کی جنگ ہے۔ فرینڈز گروپ نے ووٹر کی عزت کو اپنا سب سے بڑا نعرہ بنایا اور عملی طور پر اس پر عمل بھی کیا۔ انہوں نے تاجر برادری کے ہر طبقے کو سننے، ان کے مسائل سمجھنے اور ان کے لیے آواز اٹھانے کا عزم ظاہر کیا۔ اس گروپ کا موقف ہے کہ چیمبر کی قیادت کا حق صرف انہیں حاصل ہے جنہیں ووٹر اپنی مرضی سے چنے، نہ کہ اندرونی چالوں یا روایتی حلقوں کے ذریعے۔ اس عمل نے نہ صرف عام ووٹرز کو پرجوش کیا بلکہ انہیں یہ اعتماد بھی دیا کہ ان کا ایک ووٹ واقعی فرق لا سکتا ہے۔
بالآخر، یہ الیکشن کس کی جھولی میں پڑے گا، اس کا فیصلہ بیلٹ باکس سے نکلنے والے ووٹوں کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ لیکن اس سے پہلے ہی ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ فرینڈز گروپ نے چیمبر آف کامرس ملتان کی تاریخ میں ووٹر کو اس کا حقیقی مقام دلا کر ایک معرکہ سر کر لیا ہے۔ چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو، یہ گروپ وہ بنیاد رکھ چکا ہے جس پر آنے والے انتخابات کا ڈھانچہ کھڑا ہوگا۔ فرینڈز گروپ نے یہ ثابت کر دیا کہ چیمبر کا ووٹ صرف ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ تبدیلی کا سب سے بڑا اور موثر ہتھیار ہے، اور ووٹر کی عزت ہی کسی بھی جمہوری نظام کی اصل جان ہے۔ موجودہ صورتحال میں فرینڈز گروپ نے اپنی اہمیت کا احساس تو پورے ملتان کو دلا ہی دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بیلٹ باکس اس احساس کو عملی شکل دیتا ہے یا نہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں