ملتان(کرائم رپورٹر) شادی کا جھانسہ دے کر مبینہ زیادتی، قابلِ اعتراض ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ اور سنگین دھمکیوں کے الزام میں ملتان میں تعینات سول جج کے اہلمد احمد سعید بخاری ولد جاوید حسین بخاری کے خلاف تھانہ گلگشت میں اس کی سرکاری ملازمت کی حیثیت کو چھپاتے ہوئے عام شہری ظاہر کر کے غیر محسوس انداز میں پولیس نے سہل سہولت کاری کے بعد مقدمہ درج کر لیا مگر تھانہ گلگشت میں حاضر ہونے کے باوجود ملزم کی گرفتاری نہ ڈالی گئی اور اسے تھانے سے واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔ تھانہ گلگشت کی ایف آئی آر نمبر 1357/26 دفعہ 376 ت پ کے تحت درج ہونے کے بعد مدعیہ سیدہ (ن) ساکن بوسن روڈ نے ملزم احمد سعید بخاری کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے مبینہ اثرورسوخ کے ذریعے تفتیش پر اثرانداز نہ ہو سکے۔ایف آئی آر کے مطابق سبزہ زار کالونی کی رہائشی گھریلو خاتون سیدہ (ن) کا مؤقف ہے کہ ملزم، جو اس کا قریبی رشتہ دار بھی ہے، نے شادی کا جھانسہ دے کر اسی کا شناختی کارڈ استعمال کرکے ایک مکان کرائے پر لیا جہاں چند دوستوں کو بلا کر ایک جعلی نکاح نامہ بنوا کر اسے اپنی اہلیہ ظاہر کر دیا مگر مذکورہ نکاح نامہ اس کے حوالے نہیں کیا اور پھر بعد میں بتایا کہ وہ نکاح نامہ جس کا کہیں بھی اندراج نہیں وہ جعلی تھا اور اس کا کوئی ریکارڈ نہیں مگر گلگشت پولیس نے ایف آئی آر میں جعلی نکاح نامے کے اس سنگین جرم کو سول جج کے اہلمد کی سہولت کاری کرتے ہوئے خفیہ رکھا اور مدعیہ کے سامنے شرط رکھی کہ درخواست میں سے نکاح کا ذکر نکال دیں تب ہی مقدمہ درج ہو سکے گا ورنہ ہم عدالت کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ اس عرصے کے دوران عدالتی اہلکار ملزم احمد سعید بخاری ولد جاوید حسن بخاری نے اپنی قریبی عزیز سیدہ (نون) کی غیر اخلاقی ویڈیو فلم بھی بنوا لی اور ان ویڈیوز کو اپنے موبائل نمبر 87##0306775 کے ذریعے نون کے موبائل پر بھیج کر اسے وارننگ دی کہ اگر اس نے کسی سے بات کی یا یہ بات کسی کو بتائی کہ وہ نکاح کے بغیر رکھی گئی ہے تو وہ یہ ویڈیو وائرل کر کے اسے کہیں کا نہیں چھوڑے گا مگر گلگشت پولیس نے ایف آئی ار نمبر 1357 میں اس الزام کو بھی گول کر دیا۔ سیدہ نون نے الزام عائد کیا کہ چونکہ وہ طلاق یافتہ تھی اور دو بچوں کی ماں تھی اس لیے اس کے جھانسے میں آ گئی جس کے نتیجے میں ملزم نے مبینہ طور پر متعدد مرتبہ اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔مدعیہ کا الزام ہے کہ شادی کا اعلان نہ کرنے پر ملزم مبینہ طور پر موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز دکھا کر اسے بلیک میل کرتا اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ پولیس تھانہ گل گشت کی ہدایت کے مطابق لکھی گئی درخواست کے مطابق 28 اگست 2026 کو ملزم مبینہ طور پر مدعیہ کے گھر زبردستی داخل ہوا اور مجھ سے زبردستی زنا حرام کرنے لگا ۔ میرے شور واویلا پر اہلِ محلہ اور گواہ وقاص کے پہنچنے پر ملزم نے مبینہ طور پر پستول نکال کر دھمکیاں دیں اور یہ کہتے ہوئے فرار ہوگیا کہ وہ ملتان کی ایک عدالت کا اہلمدہے اور پولیس اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔جو میرے راستہ میں آیا اسے ختم کر دے گا۔مدعیہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات، مبینہ ویڈیوز سمیت تمام شواہد کا فرانزک جائزہ، ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور ملزم احمد سعید کو معطل کیا جائے تاکہ تفتیش متاثر نہ ہو۔ خاتون نے کہا ہے کہ ملزم مجھے اور ایف آئی آر کے گواہان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔مدعیہ نے قانونی تحفظ اور انصاف کی بھی اپیل کی ہے۔ گلگشت پولیس کی طرف سے سہولت کاری کی بنیاد پر درج شدہ ایف آئی آرکا مکمل متن درج ذیل ہے۔
بخدمت جناب ایس ایچ او صاحب تھانہ گلگشت ملتان درخواست بمراد اندراج مقدمہ برخلاف الزام علیہ: جناب عالی گزارش ہے کہ سائلہ سبزہ زار کالونی بوسن روڈ ملتان کی رہائشی با سکونتی ہے اور گھریلو خاتون ہوں۔ میرا پہلا نکاح ہمراہ ملک جاوید عرصہ تقریباً12،13سال قبل ہوا تھا جس سے میرے تین بچے مہک جاوید سے میں نے باوجہ گھریلو ناچاتی طلاق لے لی تھی ملزم احمد سعید ولد جاوید حسین بخاری جو کہ میرا قریبی رشتہ دار ہے نے مجھے ورغلا پھسلا کر نکاح کرنے کا جھانسہ دے کر ایک کرائے کے مکان پر رکھا اور مسلسل میرے ساتھ زیادتی کرتا رہا میں جب بھی نکاح کا مطالبہ کرتی تو ملزم مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ویڈیوز دکھاتا جو اس نے اپنے موبائل نمبر سے بنا کر اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں مجھے دھمکیاں دیتا اور کہتا کہ تمہاری ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دوں گا ۔ملزم 28 اگست کو میرے گھر داخل ہو گیا اور میرے ساتھ میری مرضی کے خلاف زنا حرام کرنا شروع کر دیا۔ میں نے شور واویلا کیا تو گواہان وقاص عباس سید غلام حیدر سکنہ سبزہ زار ملتان موقع پر آگئے اور علاقہ کے لوگ بھی وہاں آگئے ملزم نے پستول نکال لیا اور دھمکیاں دیں اگر کوئی میرے قریب آیا تو جان سے مار دوں گا میں جوڈیشری میں ملازم ہوں میرے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ الزام علیہ نے مجھے عرصہ دراز سے شادی کا جھانسہ دے کر مجھ سے بار بار زنا حرام کاری کر کے اور شادی سے انکاری ہو کر اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر سخت زیادتی کی ہے ۔سائل کا میڈیکل کرایا جائے اور الزام علیہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔







