نیتن یاہو ایک منٹ بھی مزید وزیراعظم رہنے کے اہل نہیں، اپوزیشن کا مستعفی ہونے کا مطالبہ

تل ابیب: اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے وزیراعظم نیتن یاہو کو عہدے کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے فوری استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔
اسرائیلی اخبار کی ایک رپورٹ میں اپنے صحافیوں کی شائع کردہ کتاب کے اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے قبل نیتن یاہو کو ممکنہ بڑے آپریشن سے آگاہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان نے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ پہلے نیتن یاہو سے رابطہ کیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ حماس ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔

نیتن یاہو پر اپوزیشن کی شدید تنقید
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کو اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو کو حملے کے ممکنہ خطرے سے پہلے ہی آگاہ کیا گیا تھا تو وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر برقرار رہنے کے اہل نہیں۔
سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے 7 اکتوبر کے حملے کی براہ راست ذمہ داری نیتن یاہو پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید ایک منٹ بھی وزیراعظم کے عہدے پر نہیں رہ سکتے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی تردید
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کے حملے سے قبل متحدہ عرب امارات کی جانب سے نیتن یاہو کو کوئی انتباہ نہیں دیا گیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بھی رپورٹ پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان براہِ راست اور کھلے رابطے موجود ہیں جبکہ متعلقہ انٹیلی جنس معلومات متعلقہ اداروں کے درمیان شیئر کی جاتی رہی ہیں۔ وزارت کے مطابق اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بدستور جاری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں