پنجاب ٹریفک پولیس کیلئے 50 الیکٹرک گاڑیوں کا منصوبہ ناکام، 451 ملین لیپس

ملتان ( شیخ نعیم) پنجاب میں ناقص منصوبہ بندی کے باعث ٹریفک پولیس کے لیے 50 الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کا منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں 451 ملین روپے کے جاری شدہ فنڈز خرچ ہونے کے بجائے لیپس ہو کر دوبارہ حکومت پنجاب کو واپس چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے رواں سال اپریل میں ٹریفک پولیس کے لیے 50 الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد محکمہ خزانہ کی جانب سے اس مقصد کے لیے 451 ملین روپے کے فنڈز بھی جاری کیے گئے، تاہم ٹریفک پولیس حکام بروقت خریداری کا عمل مکمل نہ کر سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود مقررہ مدت میں گاڑیوں کی خریداری نہ ہونے سے خطیر رقم استعمال نہ کی جا سکی، جس سے ملتان سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں ٹریفک پولیس کو جدید اور ماحول دوست گاڑیوں کی فراہمی کا منصوبہ متاثر ہوا۔ اب حکام نے دوبارہ فنڈز حاصل کرکے 50 الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کا منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے منصوبے میں ماضی کی خامیوں کو دور کرتے ہوئے خریداری کے تمام مراحل بروقت مکمل کرنے، ٹینڈرز اور تکنیکی معاملات کو پہلے سے طے کرنے اور فنڈز کے بروقت استعمال کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ملتان سمیت بڑے شہروں میں ٹریفک پولیس کے بڑھتے ہوئے فرائض کے پیش نظر الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی سے گشت، ٹریفک مینجمنٹ اور شہریوں کو فوری رسپانس دینے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہےجبکہ ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال سے ایندھن کے اخراجات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ حکام کی جانب سے شفاف اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے اس منصوبے کو دوبارہ تاخیر کا شکار ہونے سے بچانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں