کہتے ہیں کہ بھارت کی کسی دور افتادہ چند گھروں کی بستی پر ڈاکوئوں نے اس وقت حملہ کر دیا جب گاؤں کے سارے مرد تین دن کے لیے اجتماعی طور پر کسی یاترا پر گئے ہوئے تھے اور بستی میں خواتین اکیلی تھیں۔ وہ دور جدید اسلحے کا نہیں بلکہ تلواروں اور خنجروں کا تھا۔ ڈاکوئوں نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر گھر سے جہاں سامان لوٹا وہاں خواتین کی عزت بھی داغدار کر دی۔ اسی دوران ڈاکو ایک گھر میں داخل ہوئے تو وہاں موجود تین عورتوں نے ان ڈاکوئوں پر حملہ کر دیا، شدید لڑائی کے بعد ان تینوں ڈاکوئوں کو قتل کرکے ان کے سر کاٹ کر جسم سے الگ کر دیے اور بالوں سے پکڑ کر باہر بستی کے چوک میں لا کر رکھ دیے۔ پھر مندر کی گھنٹیاں بجا کر ساری گاؤں کی عورتوں کو چوک میں اکٹھا کرکے بتایا کہ یہ دیکھو تینوں ڈاکوؤں کے سر کٹے پڑے ہیں اگر آپ بھی جرات کرتے ہوئے مقابلہ کرتی تو عزت بچا لیتیں۔ گاؤں کی عورتیں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں کہ جب ہمارے مرد واپس آئیں گے اور انہیں ساری بات کا پتہ چلے گا تو ہم کیا جواب دیں گی کہ تم سب بھی تو عزت بچا سکتی تھیں جیسے ان عورتوں نے بچائی تو ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا لہٰذا ہم ثبوت ہی ختم کر دیں اور ہم یہ موقف اختیار کریں کہ ڈاکوؤں نے ان عورتوں کی عزت پر حملہ کیا تھا اور ان کے سر کاٹ کر دھڑ سے علیحدہ کر دیے تھے تو ہم سب عورتوں نے مل کر ان تمام ڈاکوئوں کو مار مار کر ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جو انہوں نے ہمارے گاؤں کی خواتین کے ساتھ کیا تھا۔ اس واقعے کا چرچہ دور دور تک پھیل گیا اور سرکاری طور پر ان تمام عورتوں کی تاج پوشی کی گئی اور انہیں وہ اعلیٰ ترین ایورڈ دیے گئے جو اس دور میں ہوا کرتے تھے۔
محبوب اسلم للہ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا کیونکہ ایڈیشنل آئی جی کے عہدے پر پروموشن کے حوالے سے میرٹ لسٹ پر ان کا نام پہلے نمبر پر تھا اور ان کی 26 سالہ ملازمت کا ریکارڈ بھی انتہائی عالیشان تھا جو کسی طور پر بھی انہیں ترقی سے روک نہیں سکتا تھا لہٰذاکوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا لازم تھا۔ ویسے بھی انجن سے اسی پرزے کو نکال کر علیحدہ کیا جاتا ہے جو انجن کے روانی سے چلنے میں رکاوٹ ہو۔ ہمارے پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں بدترین اور ظالمانہ کرپشن کی مشینری کا تمام تر نظام پرزوں کے روانی سے چلنے کے بل پر ہی ’’کامیابی‘‘ سے کھڑا ہے اور جب کوئی پرزہ اس کرپشن پر مشتمل نظام کی روانی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اسے کھڈے لائن یا تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
آج نہ جانے مجھے کیوں اوریا مقبول جان یاد آ رہے ہیں جو کہ آج کل اچھے تجزیہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں مگر ماضی میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب تھے۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیراعظم نے انہیں انتہائی قیمتی آڈیو ویوزیول سسٹم ایم ایکس ٹھیٹر جو کہ انتہائی جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل تھا، امپورٹ کرنے کے لیے کہا جو آج سے تقریباً 15 سال پہلے تین، چار کروڑ روپے میں آنا تھا اور اس کے لیے ایک جدید ایئر کنڈیشن ہال بھی بننا تھا جس میں یہ جدید اور بہترین سسٹم نصب ہونا تھا۔ ایک میٹنگ کے دوران میاں شہباز شریف نے جو اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب تھے، نے اوریا مقبول جان سے پوچھا کہ آپ نے جو سسٹم امپورٹ کروانا تھا وہ پہنچ چکا ہے جس پر اوریا مقبول جان نے بھری میٹنگ میں کہا اس سسٹم کے لیے ابھی عمارت ہی نہیں بنی لہٰذا اس کا منگوانا عمارت کی تعمیر کے بعد ہی ممکن ہے۔ ڈانٹتے ہوئے میاں شہباز شریف نے کہا کہ آپ کو سسٹم منگوا لینا چاہیے تھا میں اسے نصب کرواؤں یا کہیں ڈمپ کر دوں، یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے، آپ کا اس سے کیا تعلق؟ آپ کو جو کہا گیا ہے آپ نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا جس پر اوریا مقبول نے فوری طور پر جواب دیا کہ جناب یہ حکومت پنجاب کے پیسوں سے خریدا جانا تھا جن کا میں کسٹوڈین ہوں ہاں اگر یہ پیسہ اتفاق گروپ کا ہوتا تو میں اب تک منگوا چکا ہوتا۔ میاں شہباز شریف طیش میں آ گئے پھر اوریا مقبول جان سیکرٹری اطلاعات اور نشریات نہ رہ سکتے تھے اور نہ ہی رہے مگر آج بھی روشن چہرے کے ساتھ مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔
پنجاب میں ایک ایسے پولیس آفیسر بھی تعینات ہیں جن کے گھر میں ڈائننگ ٹیبل کا ٹاپ صرف 72 لاکھ روپے میں بنا تھا، باقی ڈائننگ ٹیبل کی کرسیاں کتنے کی ہیں اس پر راوی خاموش ہے کیونکہ جس بندے نے وہ ڈائننگ ٹیبل کا ٹاپ فراہم کیا تھا اس نے کرسیاں سپلائی نہیں کی تھیں۔
اللہ غریق رحمت کرے میرے والد صاحب کہا کرتے تھے جو کہ از خود حکومت پنجاب کے ملازم تھے کہ میں نے زندگی میں ہمیشہ ایک دعا کی ہے کہ میں جہاں سے بھی ٹرانسفر ہو کر جاؤں میری جگہ پر کوئی دوسرا چارج لینے والا آفیسر نالائق یا اذیت پسند نہ ہو کیونکہ سرکاری فائلوں میں اور کام میں کہیں نہ کہیں کوتاہی رہ ہی جاتی ہے اور وہ اس لیے رہتی ہے کہ آپ کو بہرحال اپنے ماتحت عملے پر انحصار کرنا ہی پڑتا ہے اس لیے اگر آپ کی جگہ پر چارج لینے والا اعلیٰ ظرف کا طیب آفیسر ہو گا تو وہ آپ کی کوتاہیوں پر نہ صرف پردہ ڈال دے گا بلکہ اس کی کمی کوتاہی بھی دور کر دے گا جو کہ سرکاری ملازمت میں ہو ہی جاتی ہے تاہم اگر آپ کا سکسیسر وسیع القلب نہ ہوگا تو آپ اذیت میں ہی مبتلا رہیں گے۔ سرکاری سسٹم کی اخلاقیات یہ ہیں کہ کسی بھی آفیسر کی انکوائری ہمیشہ اس سے سینئر کو مارک کی جاتی ہے مگر یہاں الٹی گنگا اس لئے بہائی گئی کے مقصد تو بدلہ لینا اور پروموشن سے دور رکھنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ محبوب اسلم کی انکوائری اس سے دو بیج جونیئر اسی ڈی آئی جی کو مارک کر دی گئی جس کی بکریوں کو پھول کھانے اور باغیچہ اجاڑنے سے محبوب اسلم للہ نے روکا تھا۔
میں اس سارے معاملے میں سابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی محبوب اسلم پر ان کی پرفارمنس کی وجہ سے خاص عنایت کو بھی ایک اہم فیکٹر گردانتا ہوں جو کہ بنیادی طور پر ایک وسیع القلب پولیس کمانڈر تھے اور اپنے ماتحت کی تعریف کرنے کے معاملے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ یہی تعریف جب وہ ڈی آئی جی حضرات اور ایڈیشنل آئی جی حضرات کی موجودگی میں پنجاب کی سطح کی میٹنگ میں محبوب اسلم للہ کی کرسی اپنی کرسی کے ساتھ رکھوا کر کھلے الفاظ میں کرتے ہوئے دوسروں کی کارکردگی کے ساتھ تقابلی جائزہ لیتے ہوئے ڈانٹ ڈپٹ کی ہلکی پھلکی ڈھولکی بجاتے تھے تو اس سے بہت سوں کو تکلیف ہوتی تھی اور ڈاکٹر عثمان انور کی ٹرانسفر کے بعد پھر ایک دن وہ ڈھولکی ڈھول بن کر پھٹ گئی۔ (جاری ہے)







