ایک سرد شام میں چولستان کے علاقے کڈ والا بنگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک بکر وال (گڈریے) نے مجھے بتایا تھا کہ جب چولستان میں بارشیں ہوتی ہیں تو رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں اور ان پھولوں کو بکریاں بہت شوق سے کھاتی ہیں تو ان کے دودھ میں بھی مختلف قسم کے پھولوں کی خوشبو شامل ہو جاتی ہے اور پھر پھولوں والا یہ دودھ کمال کی جسمانی طاقت بھی دیتا ہے۔ ویسے بھی جب اختیارات کی طاقت سے جسمانی طاقت کا اشتراک ہو جائے تو معاملہ دو چند ہو جاتا ہے گویا سونے پہ سہاگہ۔ مہا راجہ ڈی آئی جی کی بکریوں کا چوہنگ پولیس ٹریننگ سینٹر میں لان کے پھولوں کو کھانا تو ایک بہانہ ہے، حقیقت میں تو میرٹ پر پہلی صفوں میں آنے والے انتہا کے ایماندار، انصاف اور میرٹ پسند ڈی آئی جی محبوب اسلم للہ کو ایڈیشنل آئی جی کی پرموشن کمیٹی کی دوڑ سے باہر کرنا تھا کیونکہ جب کوئی آفیسر زیر انکوائری ہو تو اس کی فائل پرموشن کمیٹی کی فائلوں سے علیحدہ رکھ دی جاتی ہے اس لئے تو پنجاب پولیس کے باآثر ترینافسران کو رازداری برقرار رکھنے کے لیے ازخود فون کرکے محبوب اسلم کے خلاف خبریں لگوانے کے لیے ریکویسٹ کرنا پڑی تاہم یہ الگ بات ہے کہ رازداری پھر بھی نہ رہ سکی اور بات کھل گئی۔
پنجابی زبان کی ایک مشہور کہاوت ہے ’’رن روندی یاراں نوں لیندی نہ بھراواں دا‘‘ یعنی ٹارگٹ کوئی اور ہوتا ہے مگر اس کا رخ کسی اور طرف موڑ دیا جاتا ہے اور اب تک جو میں نے اپنے ذرائع سے معلومات لی ہیں، یہ معاملہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے حالانکہ جب میں نے محبوب اسلم کے بڑے بھائی محمود اسلم للہ سے تفصیلات جاننے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے اس معاملے پر کچھ بھی لکھنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ محبوب اور اللہ کے درمیان ہے اور اس کے ساتھ جتنی دعائیں ہیں غفار احمد تم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
میری 1987 کے بعد سے آج تک محبوب اسلم للہ سے ملاقات نہیں ہوئی حتی کہ کبھی فون پر بھی بات نہیں ہوئی کیونکہ میرے پاس اس شریف آدمی کا نمبر ہی نہیں ہے۔ ان دنوں وہ غالبا آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا البتہ مسعود اسلم اور بڑے بھائیوں جیسے محمود اسلم للہ سے تو باقاعدگی سے رابطہ رہتا ہے کیونکہ یونیورسٹی سے واپسی پر اکثر دوپہر مسعود کے علامہ اقبال ٹاؤن والے گھر میں گزرتی تھی۔ محمود بھائی سے تو میرا تعلق 1983 میں میانوالی میں قائم ہوا جو آج تک چل رہا ہے اور اس کا کریڈٹ صرف اور صرف انہی کو جاتا ہے۔ مسعود سے ٹھنڈے تتے تعلقات چلتے رہتے ہیں کیونکہ مسعود سروسز ہسپتال اور میو ہسپتال میں سوشل ویلفیئر آفیسر رہا ہے اور میرا یہی کام ہوتا تھا کہ روزانہ کسی نہ کسی ضرورت مند کو اپنے نام کی چٹ دے کر مسعود کو بھیج دینا کہ اس مریض کو چیک کروا دو، ادویات لے دو اور ساتھ دھمکی بھی دینی کہ شکایت نہیں آنی چاہیے کہ آخر کار بلیک میلر جو ٹھہرے، مسعود کی اعلی ظرفی تھی کہ کبھی بھی نہیں آتی تھی۔ درد سر مسعود لیتا اور مجھے مفت میں دعائیں ملا کرتی تھی، پھر مسعود گریڈ 17 کی سرکاری نوکری چھوڑ کر اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ کینیڈا شفٹ ہو گیا جہاں اس کا مجھ سے کہیں زیادہ رابطہ میرے چھوٹے بھائی میاں حنان کے ساتھ ہو گیا جو وہاں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے گیا ہوا تھا۔ کینیڈا کے ٹھنڈے ماحول کے باوجود اس سے اور محفوظ ورک سے تعلقات پرانے گھی کی طرح مزید خوشبودار ہوتے جا رہے ہیں۔
میرٹ پر ڈٹ جانے اور غریب پروری کی ’’بیماری‘‘ سارے للہ برادران میں بہت پرانی ہے جس کے درجنوں واقعات کا میں عینی شاہد ہوں۔ ویسے بھی پنڈ دادن خان کی مٹی کے جن جوانوں کے آبا و اجداد نے سکندر اعظم کا مقابلہ کیا ہو ان کے سامنے یہ مقابلہ تو اونٹ کے منہ میں رائی جتنا بھی نہیں ہے۔
مجھے دو مرتبہ موٹروے کے ٹریننگ سینٹر جانے کا اتفاق ہوا مگر دونوں مرتبہ محبوب سے ملاقات نہ ہو سکی اور دیگر دوستوں سے مل کر میں اسلام آباد روانہ ہو جایا کرتا تھا۔ چند ہی سالوں میں محبوب اسلم نے موٹروے پولیس کے نئے قائم ہونے والے تربیتی ادارے کو نظم و ضبط اور بہترین ماحول کے حوالے سے سٹیٹ آف آرٹ بنا کر عالمی تربیتی رینکنگ میں کھڑا کر دیا تھا۔ جہاں تک پولیس ٹریننگ سکول چوہنگ کا معاملہ ہے تو میرا یہاں آنے جانے کا معمول سالہا سال پرانا ہے اور میں عارف حسین کے ہمراہ گھنٹوں میجر مبشر مرحوم کے پاس اس سینٹر میں گزارا کرتا تھا مگر تین ماہ قبل کسی کام کے سلسلے میں مجھے ایک دوست کے ہمراہ پولیس ٹریننگ سینٹر چوہنگ جانا پڑا تو وہاں ماحول ہی بدلا ہوا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اچانک ماضی کے چوھڑ کانے کی کسی پرانی اور بدبودار بیرک سے ویزا لیے بغیر سویٹزر لینڈ کے کسی تربیتی ادارے میں پھر رہا ہوں۔
موٹروے پولیس ٹریننگ سینٹر کے بعد پولیس ٹریننگ سینٹر چوہنگ کو بھی بطور کمانڈنٹ محبوب اسلم للہ نے سٹیٹ آف آرٹ بنا دیا ہے اور جہاں کبھی گرد اڑا کرتی تھی وہاں خوشبودار پھولوں کی کیاریوں نے مجھے حیران کر دیا۔ جہاں برسات کے مہینے میں سبز رنگ کی کائی پر احتیاط سے پاؤں رکھ کر چلنا پڑتا تھا وہاں لش گرین باغیچے بن چکے تھے۔ مگر کیا کہا جائے کہ محبوب اسلم بھی بادشاہ بندہ ہے، موصوف نے بکریوں کا داخلہ خوبصورت پارکوں میں بند کر دیا کہ بکریاں پھول کھا جاتی ہیں مگر وہ یہ بھول گئے کہ اگر بکریاں پھول کھاتی ہیں تو میگنیوں کی صورت میں قدرتی کھاد بھی تو ان پودوں میں ڈال کر ’’فنڈز‘‘ کی بچت میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتی ہیں اور یہ بھی قومی خزانے پر بوجھ بعض افسران کے نزدیک “آم کے آم اور گھٹلیوں کے دام” کے مصداق تھا مگر محبوب اسلم اس باریک نکتے کو سمجھ نہ سکے۔
برصغیر کی سیاست میں بکری کا کردار بعض حوالوں سے بہت اہم رہا ہے اور مہاتما گاندھی کی بکری کو تو خالص موتی، ڈرائی فروٹس اور مختلف قسم کے معجون بھی کھلائے جاتے تھے اور وہ بکری جہازوں پر مہاتما گاندھی کی ہمسفر بھی ہوا کرتی تھی تاہم راجگانی بکریوں کی خوراک کے حوالے سے تا دم تحریر ایسی کوئی بات سامنے نہیں آ سکی۔ کہا جاتا ہے کہ مہاتما گاندھی خود تو بہت سادہ زندگی گزارتے تھے البتہ ان کی بکری کو بہت زیادہ پروٹوکول میسر تھا اور کچھ اسی قسم کا پروٹوکول پولیس ٹریننگ سینٹر کی سرکاری رہائش گاہ میں قیام پذیر ڈی آئی جی راجہ فیصل کی بکریوں کے پنجے کو بھی حاصل تھا۔ بہت سے دوست پنجے کو شاید نہ سمجھ سکیں مگر جیل خانہ جات سے تعلق رکھنے والے افسران اور ماتحت پنجہ کا مطلب خوب سمجھتے ہیں۔
محبوب اسلم نے اسی چوہنگ ٹریننگ سینٹر میں پیرا فورس کے 600 اور کسٹم کے 550 سے زائد افسران اور اہلکاروں کو بھی تربیت دی اور وہ بھی ان دونوں اداروں کے سربراہان کی خواہش اور بار بار کی درخواست پر۔ مجموعی طور پر 17 کروڑ روپے اس ٹرینگ کی فیس کے عوض سرکاری کھاتے میں وصول کیے، کہ جس میں سے انہوں نے کچھ رقم بچا کر پولیس ٹریننگ سینٹر کی ویلفیئر پر بھی خرچ کی جو ان کا جرم گردانا گیا۔ پیرا فورس اور کسٹم کے افسران کو یہاں کئی ماہ کی ٹریننگ کے دوران اسلحہ چلانا اور تفتیش کے جدید طریقہ کار سکھائے گئے، جرائم پیشہ عناصر کی نفسیات کے بارے میں سیر حاصل تربیت دی گئی۔ چند سال قبل جس پولیس ٹریننگ سینٹر چوہنگ میں سلور کی ڈینٹ زدہ پلیٹوں میں وکھری ٹائپ کی “عزت” کے ساتھ شوربہ نما سبزی کا کھانا دیا جاتا تھا، وہاں بہترین میزوں، خوبصورت کرسیوں اور انتہائی معیاری کراکری میں زیر تربیت افسران عزت نفس کے ساتھ کھانا تناول کرنے لگے تھے۔ شوربے سے بھرے ہاتھوں اور کوکنگ آئل سے اٹی مونچھوں والے ماحول کی جگہ چھری کانٹے آ گئے اور ’’انسانی انگلیوں سے بنے قدرتی چمچہ‘‘ کلچر کا بتدریج خاتمہ ہوتا گیا، جو بہرحال محبوب اسلم للہ کا جرم ہی تو تھا اور ویسے بھی پاکستان میں پچھلے 70 سال سے شعور دینے والا قابل گوشمالی ہی قرار پاتا ہے۔
محبوب اسلم پر اس نامکمل، غیر سنجیدہ اور کرپشن کے انوکھے الزام نے ایک نئی بات ثابت کی ہے کہ آڈٹ پیرا بھی جرم بن جاتا ہے جب افسران دلوں میں میل رکھ لیں۔ محبوب اسلم واقعی قصور وار تھے کیونکہ وہ پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی تربیت کے معیار کو بہت بلندی پر لے جا کر ملازمین کے شعور کو دو چند کرنے لگ گئے تھے اور یہ “گستاخی” ہماری نوکر شاہی کے بدبودار ماحول میں بہت سے کروفر والوں کو نہ تو پسند آتی ہے اور نہ ہی ہضم ہوتی ہے کہ ماتحت کو شعور آ جائے۔
مجھے ذاتی طور پر ڈاکٹر عثمان انور سے بہت سے اختلافات اور شکایات ہیں کہ جب وہ لاہور میں پہلی مرتبہ ایف آئی اے میں تعینات تھے تو ایک تفتیش کے معاملے پر میری ان سے اچھی خاصی تلخی بھی ہو چکی ہے مگر سچ یہ ہے کہ وہ غریب پرور ہیں اور پولیس فورس کے لیے درد دل بھی کمال کا رکھتے تھے۔ محبوب اسلم چونکہ بے سہارا اور یتیم بچوں کی کفالت کرتے ہیں اور پانچ بچوں سے شروع ہونے والا ان کا یہ سفر چند سالوں میں اب دوستوں کے تعاون سے 300 بچوں تک پہنچ چکا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی شہادت کی انگلی اور بڑی انگلی کو آپس میں جوڑ کر کیا ہی اعلی اعلان کیا کہ ایک یتیم بچے کی کفالت کرنے والا روز محشر میرے ساتھ یوں کھڑا ہو گا۔ اور پھر یہ فرمان بھی تو نبی آخر الزمان سے ہی تو منسوب ہے کہ اگر کوئی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے گا تو اس کے ہاتھ میں یتیم بچے کے جتنے بال آئیں گے اس کے اتنے ہی گناہ معاف ہو جائیں گے اور پھر سر کے بال تو اللہ کے فرشتوں کے علاوہ کوئی گن بھی نہیں سکتا۔ یہی وہ چند وجوہات ہیں کہ سابق آئی جی ڈاکٹر عثمان انور اور میٹنگ میں محبوب اسلم اللہ کو اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھاتے ہیں اور محبوب اسلم سے سینیئر افسران ائے گی سے قدر فاصلے پر بیٹھتے تھے پھر محبوب اسلم کی کارکردگی کے حوالے سے انہیں ڈاکٹر عثمان انور کی ڈانٹ بھی سننا پڑتی تھی اس کے برابری کرنے اور بدلہ لینے کا ابھی تو وقت آیا ہے
پولیس ٹریننگ سینٹر کے موجودہ کمانڈر سہیل چوہد ر ی کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ لاہور میں ایس پی تعینات تھے اور برلب نہر واقعہ راجپوت ٹاؤن پر ایک پلازے کے معاملے پر انہوں نے اپنے اختیارات کا آزادانہ اور بھرپور استعمال کیا تھا پھر فیصل آباد اور حال ہی میں ایک لمبی اننگز بطور آر پی ملتان کھیل کر آئے ہیں جن کی درجنوں کاروائیوں کا بطور اخبار نویس میں عینی شاہد ہوں اور مزے کی بات یہ ہے کہ سہیل چوہدری سے بھی میں کبھی نہیں ملا۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ ملتان رینج میں منشیات کے مقدمات کیسے درج ہوتے تھے اور صوبے بھر کے تاجروں کے لین دین کے معاملات ملتان رینج کی حدود میں کس طرح اور کس قسم کے بے بنیاد مقدمات درج کروا کر حل کروائے جاتے تھے۔ ان کی کمانڈ میں ملتان میں نجی گاڑیاں سڑکوں پر کم اور ٹھیکیداری نظام کے تحت پرائیویٹ لفٹروں پر زیادہ چلتی تھیں، وہ تو اللہ بھلا کرے عثمان اکرم گوندل کا کہ چارج سنبھالتے ہی انہوں نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ میری عثمان اکرم گوندل سے بھی کبھی ملاقات نہیں ہوئی کہ ضرورت ہی نہیں پڑی اور ویسے بھی میری تو یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ اپنا محتاج رکھنا، دوسروں کی محتاجی سے محروم ہی رکھنا اور اللہ نے رکھا ہوا ہے یہ اس کا کرم ہے، اس میں کوئی اوقات نہیں۔ مجھے خوشی اور اطمینان اس بات کا ہے کہ “گوندل” ہونے کے باوجود میں موجودہ آر پی او ملتان عثمان اکرم کے میرٹ اور نظام عدل سے بہت ہی زیادہ مطمئن ہوں
محبوب اسلم للہ کے’’جرائم‘‘کی فہرست بہت طویل ہے جن کا کسی کالم کی ایک قسط میں احاطہ کرنا ناممکن ہے لہٰذا قارئین اگلی اقساط کا انتظار فرمائیں۔
(جاری ہے)







