طاقت کے ایوان اور بے بس شہری: فرسودہ نظامِ نوکر شاہی کا المیہ

شہرِ اقتدار، جس کی کل وسعت محض اٹھائیس کلومیٹر کے مختصر دائرے میں سمٹی ہوئی ہے، وہاں کا انتظامی انتشار ہمارے فرسودہ بیوروکریٹک ڈھانچے کی بے تدبیری اور زوال پذیری کا نوحہ سنا رہا ہے۔ جو نظام ایک محدود اور دارالحکومت جیسے حساس و مرکزی خطے کو سنبھالنے سے قاصر ہو، اس سے وسیع و عریض ملک کے دور دراز اضلاع کی فلاح و بہبود کی امید رکھنا محض خام خیالی ہے۔شاہانہ محلات اور پُرتعیش سرکاری اقامت گاہوں میں مقیم مراعات یافتہ طبقہ، جس کے گرد خدم و حشم کے جمگھٹے اور سرکاری وسائل کی فراوانی ہے، اس زمینی حقیقت سے یکسر بے خبر ہے کہ دہلیزِ اقتدار سے باہر عام آدمی کن مصائب سے نبرد آزما ہے۔ بنیادی شہری ضروریات، علاج معالجے کے مراکز، تعلیمی اداروں، نقل و حمل کے ذرائع اور تحفظِ جان و مال کے حصول کے لیے درماندہ شہری ہر سو دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ایوانِ اقتدار کی آسائشیں اور گلی کوچوں میں بسنے والے شہریوں کی بے بسی، ہمارے نظام کی طبقاتی خلیج کا بین ثبوت ہیں۔اصل مرض افسر شاہی کے محض عددی بگاڑ تک محدود نہیں، بلکہ خرابی کی جڑ وہ آمرانہ اور مرکزیت پسند انتظامی ڈھانچہ ہے جس نے اربابِ اختیار اور عام شہریوں کے درمیان ایک ناقابلِ عبور خلیج حائل کر دی ہے۔ جہاں فیصلے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے بغیر بند کمروں میں صادر ہوتے ہوں، وہاں نظام کا مفلوج ہونا ایک فطری امر ہے۔ حکمرانی کا پہلا اور آخری اصول جوابدہی ہے؛ جب تک پالیسی ساز اور انتظامی کل پرزے براہِ راست عوام کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کے پابند نہیں بنائے جاتے، تب تک طرزِ حکمرانی میں بہتری کا ہر دعویٰ سراب رہے گا۔اس بحران کا واحد اور ٹھوس حل یہ ہے کہ اختیارات کا بے جا ارتکاز ختم کر کے غیر فطری طور پر پھیلے ہوئے بڑے صوبوں کی تقسیم عمل میں لائی جائے اور ملک بھر میں خود مختار انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ رحیم یار خان یا ڈیرہ غازی خان کے کسی دور افتادہ باسی کو اپنے بنیادی مسائل کے حل، داد رسی یا معمولی انتظامی امور کیلئے سینکڑوں میل دور لاہور کا رختِ سفر باندھنا پڑتا ہے۔ وقت کا ناگزیر تقاضا ہے کہ تمام بڑے صوبوں کی مرکزیت پسندی کو تحلیل کر کے نچلی سطح پر مالیاتی اور انتظامی اختیارات سے لیس چھوٹی اکائیاں تشکیل دی جائیں، تاکہ فیصلے مقامی ترجیحات کے تحت ہوں اور عوام کو اپنی دہلیز پر فوری ریلیف، بلا تاخیر انصاف اور براہِ راست ثمرات میسر آ سکیں۔ ریاست کا بنیادی مقصد حکمران اشرافیہ کی مراعات کا تحفظ نہیں، بلکہ عام آدمی کو باوقار زندگی، بنیادی سہولیات اور بروقت انصاف کی فراہمی ہے۔ جب تک اختیارات کو تختِ لاہور یا دیگر صوبائی دارالحکومتوں کے حصار سے نکال کر نچلی سطح تک منتقل نہیں کیا جاتا، تب تک ریاست کو حقیقی معنوں میں فلاحی بنانا ممکن نہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں