ملتان (کورٹ رپورٹر) خاتون خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بیوی کو گھر سے نکالنا اب سنگین جرم قرار دیدیا گیا ہے۔ شوہر یا سسرال والوں پر بیوی کو زبردستی گھر سے نکالنے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ۔498-D کا اطلاق ہوگا یعنی انہوں نے بیوی کو گھر سے نکال کر سنگین جرم کا ارتکاب کیاہے۔ پاکستان میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے اہم قانونی پیش رفت ہے ۔ قانون کے تحت غیر قانونی بے دخلی پر پابندی عائدکردی گئی۔شوہر یا سسرال کا کوئی بھی فرد بلاجواز یا بغیر عدالتی اجازت کے بیوی کو گھر سے نہیں نکال سکتا۔ اس جرم کے ثابت ہونے پر 3 سے 6 ماہ تک قید اور 2 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اب بغیر قانونی طریقہ کار کے خواتین کو یکطرفہ طور پر سڑک پر لانے کی روایت کا خاتمہ ہو گا۔دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر شوہر یا سسرال والے کسی بھی بات پر ناراض ہوکر اپنی بیوی یا بہو کو دھکے دیکر گھر سے نکال دیتے ہیں جو خواتین اپنے میکے نہیں جاسکتیں وہ عدالت کے ذریعے دارالامان میں پناہ لینے پر مجبورہیں۔







