ملتان (اعجاز مرتضیٰ سے)میپکو کی نجکاری کا عمل تیز۔ 6 ماہ کی ڈیڈلائن ،حکومت نے بڑاقدم اٹھالیا۔اسلام آباد میں اہم ترین میٹنگ، نجکاری پلان کوفائنل ٹچ دینے کافیصلہ کرلیاگیا۔ذرائع کے مطابق میپکو سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا حکومتی منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، حکومت نے میپکو اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کو نجکاری پروگرام کے چوتھے بیچ میں شامل کرتے ہوئے ان کے مستقبل کے ڈھانچے اور ممکنہ نجکاری سے قبل تنظیم نو کا عمل شروع کردیا ہے۔ میپکو کو چھوٹی تقسیم کار کمپنیوں میں تقسیم کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اسے سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ قابلِ انتظام اور پرکشش بنایا جاسکے۔نجکاری کمیشن کی جانب سے میپکو کو باقاعدہ نجکاری پروگرام میں شامل کیے جانے کے بعد آئندہ مرحلے میں مالیاتی مشیر کی تعیناتی، کمپنی کے اثاثوں، واجبات، مالی کارکردگی، بجلی چوری، لائن لاسز، ریکوری اور ملازمین سے متعلق ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد نجکاری کا حتمی ماڈل، حصص کی مالیت اور سرمایہ کاروں سے دلچسپی طلب کرنے کا مرحلہ آئے گا۔دوسری جانب حکومت نے پہلے مرحلے میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری کا عمل تیز کردیا ہے۔ گیپکو کے لیے 11 ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 51 سے 100 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔حکومت کا منصوبہ پہلے مرحلے کی تینوں کمپنیوں کی نجکاری کو 2026 کے آخری حصے یا 2027 کے آغاز تک مکمل کرنا ہے، تاہم میپکو کے لیے ابھی حتمی بولی یا فروخت کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری کے ذریعے بجلی کی تقسیم کے نظام میں کارکردگی، ریکوری، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور صارفین کی خدمات بہتر ہوں گی۔ تاہم نجکاری کا مطلب یہ نہیں کہ بجلی کے نرخ نجی کمپنی اپنی مرضی سے مقرر کرسکے گی. ٹیرف اور ریگولیٹری معاملات میں نیپرا کا کردار برقرار رہے گا۔ماہرین کے مطابق نجکاری کی اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ نجی انتظامیہ بجلی چوری، لائن لاسز اور کمزور ریکوری کو کس حد تک کم کرتی ہے اور حکومت صارفین کے تحفظ کے لیے ریگولیٹری نگرانی کتنی مؤثر رکھتی ہے۔میپکو کے لیے اصل مرحلہ ابھی باقی ہے۔میپکو کی نجکاری کے حوالے سے سب سے اہم مرحلہ اس کی مالیت کاتخمینہ اور انتظامی ومالیاتی ڈھانچے کی۔تشکیل نو ہوگا۔ میپکو کے اثاثوں، واجبات، ملازمین، پنشن ذمہ داریوں، بجلی چوری، لائن لاسز اور ریکوری کی مکمل تصویر سامنے آنے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ کمپنی کو موجودہ شکل میں نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا ۔میپکو کی نجکاری کا فیصلہ بنیادی طور پر ہوچکا ہے، تاہم فروخت کی حتمی قیمت، سرمایہ کار، بولی کی تاریخ اور نجی انتظامیہ کو منتقلی ابھی باقی ہے۔ حکومت کی جانب سے عمل جاری رہنے کی صورت میں میپکو کی نجکاری کا اصل مرحلہ 2027 میں نمایاں طور پر سامنے آنے کا امکان ہے۔







