ملتان (کرائم رپورٹر)ملتان پولیس میں تین ایس ایچ اوز کو کرپشن ثابت ہونے پر سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر نے کلوز ٹو لائن کر دیا ۔کلوز ٹو لائن کیے جانے کے بعد محکمہ پولیس کے احتسابی نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تھانہ ڈی ایچ اے کے ایس ایچ او حافظ شہباز احمد، تھانہ بدھلہ سنت کے ایس ایچ او محمد سعید اور تھانہ مظفرآباد کے ایس ایچ او بابر شہزاد کو محکمانہ کارروائی کے تحت کلوز ٹو لائن کر دیا گیا جبکہ ان کی جگہ ابراہیم سیف، سجاد حسین اور محمد وقاص کو نئے ایس ایچ اوز کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔یہ کارروائی بظاہر احتساب کی جانب ایک قدم ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا کلوز ٹو لائن ہونا ہی احتساب ہے؟ یا پھر چند دن، چند ہفتے یا چند ماہ بعد یہی افسر دوبارہ کسی تھانے کی کمان سنبھالیں گے اور معاملہ فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟محکمانہ کارروائی یقیناً ضروری ہےلیکن کارروائی کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے نتائج مستقل اور شفاف ہوں۔ اگر کسی افسر کے خلاف سنگین شکایات یا الزامات ثابت ہوتے ہیں تو صرف عہدہ تبدیل کرنا کافی نہیں بلکہ قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق ذمہ داری کا واضح تعین بھی ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر الزامات ثابت نہیں ہوتے تو افسر کو غیر ضروری طور پر سزا کا سامنا بھی نہیں ہونا چاہیے۔اصل بیماری تھانے دار نہیں، احتساب کے کمزور نظام میں ہے۔ملتان سمیت ملک بھر میں پولیس کے حوالے سے ایک تاثر بارہا سامنے آتا ہے کہ افسر تبدیل ہوتے ہیں، تھانے دار تبدیل ہوتے ہیں، احکامات جاری ہوتے ہیں مگر نظام کے بنیادی مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ آج کون سا ایس ایچ او کلوز ٹو لائن ہوا؛ سوال یہ ہے کہ کلوز ٹو لائن کے بعد کیا ہوا؟کیا مکمل انکوائری ہوئی؟کیا الزامات ثابت یا مسترد ہوئے؟کیا ذمہ داری کا تعین کیا گیا؟کیا متاثرہ شہری کو انصاف ملا؟اور سب سے بڑھ کر کیا اس کارروائی سے آئندہ کسی دوسرے افسر کو غلط طرزِ عمل اختیار کرنے سے روکنے کا مؤثر پیغام گیا؟اگر ان سوالات کے جواب صرف فائلوں میں موجود ہوں اور عوام کو نظر نہ آئیں تو پھر احتساب کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ایمانداری کا امتحان وردی میں نہیںاختیار کے استعمال میں ہوتا ہےیہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ایمانداری انسان کو رسوائی سے بچاتی ہے۔ پولیس افسر کے پاس اختیار بھی ہوتا ہے اور عوام کی عزت، جان و مال اور انصاف سے جڑی بڑی ذمہ داری بھی۔ اس لیے پولیس افسر سے صرف کارروائی نہیں بلکہ کردار، دیانت، میرٹ اور انصاف کی توقع کی جاتی ہے۔نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز کے لیے بھی یہ ایک واضح موقع ہے کہ وہ اپنی تعیناتی کا آغاز کسی سفارش، دباؤ یا ذاتی مفاد سے نہیں بلکہ قانون کی بالادستی سے کریں۔عوام کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ تھانے کا دروازہ غریب اور امیر، بااثر اور بے اختیار، سب کے لیے برابر ہے۔نئے ایس ایچ اوز کے لیے بھی امتحان شروع ہوگیاہے۔ڈی ایچ اے میں ابراہیم سیف، مظفرآباد میں سجاد حسین اور بدلہ سنت میں محمد وقاص کی تعیناتی اب محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک امتحان بھی ہے۔کیا یہ افسر ثابت کریں گے کہ پولیسنگ صرف مقدمات درج کرنے اور ملزمان گرفتار کرنے کا نام نہیں بلکہ عوام کو عزت، تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کا نام ہے؟کیا یہ افسر اپنے تھانوں کو شکایات کے مراکز کے بجائے انصاف کے مراکز بنا سکیں گے؟اور کیا ان کی کارکردگی کا جائزہ صرف چند ماہ بعد جرائم کے اعدادوشمار سے لیا جائے گا یا شہریوں کی شکایات، تفتیش کے معیار، میرٹ اور عوامی اعتماد کو بھی پیمانہ بنایا جائے گا؟اگر پولیس میں واقعی بہتری لانی ہے تو کلوز ٹو لائن، معطلی یا تبادلہ آخری منزل نہیں ہونا چاہیے۔ اصل ضرورت ایک ایسے مسلسل احتسابی نظام کی ہے جس میں ہر ایس ایچ او کی کارکردگی کا باقاعدہ ریکارڈ ہو، شہری شکایات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی اور ثابت شدہ بدعنوانی یا بدسلوکی پر مؤثر کارروائی ہو۔کیونکہ تھانے دار بدلنے سے تھانہ نہیں بدلتا، نظام بدلنے سے تھانہ بدلتا ہے۔ملتان پولیس کے لیے یہ وقت صرف تین ایس ایچ اوز کی تبدیلی کا نہیں بلکہ اپنے احتسابی نظام پر سنجیدگی سے نظر ڈالنے کا ہے۔ اگر کارروائی صرف چند دن کی خبر بن کر رہ گئی تو کل ایک نئی فہرست سامنے آ سکتی ہے۔ لیکن اگر احتساب مستقل، شفاف اور میرٹ پر ہوا تو یہی کارروائی پولیس کلچر میں حقیقی اصلاح کی بنیاد بن سکتی ہے۔عوام کو معطلی کی خبر نہیں، انصاف کا نتیجہ چاہیے۔عوام کو افسر کی تبدیلی نہیں، نظام کی تبدیلی چاہیے۔اور پولیس کو صرف اختیار نہیں، اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی چاہیے۔







