پبلک یونیورسٹی میں مالی بےضابطگیاں، رجسڑار و خزانچی کو شاہانہ سہولیات، وی سی کی چپ پالیسی

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان شہر کے عین وسط میں موجود ایک پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں رجسٹرار اور خزانچی کے خلاف بالترتیب 21 لاکھ اور 16 لاکھ روپے کی ریکوری سے متعلق ہاسٹل وارڈن و پی آر او کی جانب سے درخواستوں نے یونیورسٹی کے مالی نظم و ضبط، رہائشی سہولیات اور سرکاری وسائل کے استعمال اور وائس چانسلر کی نا اہلی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ دونوں درخواستیں ایک ہاسٹل وارڈن کی جانب سے دی گئیں جن میں یونیورسٹی کے غیر قانونی رجسٹرار و خزانچی کی رہائشی اور ہاسٹل سہولیات کے مبینہ غیر معمولی استعمال، بجلی کے اخراجات اور دیگر مالی واجبات کی عدم وصولی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رجسٹرار مبینہ طور پر یونیورسٹی کی حدود میں تقریباً آٹھ مرلے کی رہائش استعمال کر رہے ہیں تاہم اس رہائش کے عوض صرف 2300 روپے ماہانہ ادا کیے جا رہے ہیںجو ایک طالب علم کے ہاسٹل چارجز کے برابر رقم بتائی جاتی ہے۔ دوسری جانب خزانچی پر الزام ہے کہ وہ ایسے ہاسٹل ہال کو اکیلے استعمال کر رہے ہیں جس میں تقریباً 10 طلبہ کے قیام کی گنجائش ہے۔ اگر فی طالب علم 2300 روپے ہاسٹل فیس کے حساب سے دیکھا جائے تو اس ہال سے تقریباً 23 ہزار روپے ماہانہ آمدن یونیورسٹی کے اکاؤنٹ میں آ سکتی تھی مگر مبینہ طور پر پورا ہال ایک افسر کے زیرِ استعمال ہونے کے باوجود صرف 2300 روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ اطلاعات کے مطابق رجسٹرار کی زیرِ استعمال رہائش میں بجلی کی ماہانہ کھپت 650 سے 700 یونٹس جبکہ خزانچی کے زیرِ استعمال ہاسٹل ہال میں تقریباً 550 یونٹس تک پہنچ رہی ہے، تاہم ان بجلی کے اخراجات کی مکمل وصولی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یوں عوامی خزانے سے چلنے والے ادارے میں بجلی، رہائش اور دیگر سہولیات کے استعمال کے باوجود اصل مالی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور وائس چانسلر اس بارے میں اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں یا سب ایک دوسرے کے معاملات میں چپ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ سوال اب یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے کھڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی رہائشی سہولیات استعمال کرنے والے ملازمین سے ہاؤس رینٹ، بنیادی تنخواہ کے پانچ فیصد کے حساب سے مینٹیننس چارجز، بنیادی تنخواہ کے تین فیصد کے حساب سے یوٹیلٹی چارجز اور دیگر مقررہ واجبات و کٹوتیاں وصول کی جاتی ہیں۔ تاہم شکایات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رجسٹرار اور خزانچی کے معاملے میں ان مالی ذمہ داریوں کی مکمل وصولی نہیں ہو رہی۔ یہ سوال صرف چند ہزار یا لاکھ روپے کا نہیں بلکہ یونیورسٹی میں یکساں مالی قواعد کے اطلاق اور اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال کا ہے۔ مزید حیران کن امر یہ ہے کہ دونوں افسران کے ڈسپوزل پر مبینہ طور پر ایک ایک نائب قاصد اور کک بھی موجود ہیں جن کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات بھی بالواسطہ طور پر سرکاری وسائل سے وابستہ ہیں۔ طلبہ اور ملازمین کے لیے الگ قواعد اور اعلیٰ افسران کے لیے الگ سہولیات کا تاثر پیدا ہونا کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہاسٹل وارڈن کی درخواستوں میں مجموعی طور پر تقریباً 37 لاکھ روپے کی ریکوری کے معاملات سامنے آنے کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی نظام میں نگرانی کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر ایک رجسٹرار اور خزانچی طویل عرصے تک رہائش، ہاسٹل، بجلی اور دیگر سہولیات استعمال کرتے رہے اور ان کے واجبات کی مکمل وصولی نہیں ہوئی تو متعلقہ شعبوں کے افسران اور ذمہ دار اتھارٹیز نے بروقت کارروائی کیوں نہ کی؟ یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دے سکتی ہے کہ جس ادارے کے ذمہ ملک کے مستقبل کے معمار تیار کرنا ہیں، وہاں بعض بااثر افسران خود قواعد و ضوابط کی گرفت سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔ عام ملازم یا طالب علم سے چند روپے کی فیس یا واجب الادا رقم کی وصولی کے لیے سختی کی جاتی ہے، مگر اگر اعلیٰ انتظامی عہدوں پر بیٹھے افراد کے بارے میں مالی رعایتوں کے الزامات سامنے آئیں تو خاموشی اختیار کرنا ادارے کے مالی نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔تاہم ان الزامات کی حتمی حقیقت کا تعین آزادانہ اور دستاویزی آڈٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ، آڈیٹرز اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ رجسٹرار اور خزانچی کے زیرِ استعمال رہائش و ہاسٹل سہولیات کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے، گزشتہ مدت کے بجلی کے میٹر ریڈنگز اور بلوں کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، واجب الادا ہاؤس رینٹ، مینٹیننس اور یوٹیلٹی چارجز کا حساب کیا جائے، جبکہ ان کے ڈسپوزل پر تعینات عملے کی تعیناتی اور اس پر آنے والے اخراجات کی بھی جانچ کی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر دونوں افسران کے خلاف 21 لاکھ اور 16 لاکھ روپے کی ریکوری سے متعلق درخواستیں واقعی ریکارڈ کا حصہ ہیں تو انہیں محض دفتری فائلوں میں دفن کرنے کے بجائے ان پر باقاعدہ انکوائری ہونی چاہیے۔ اگر الزامات غلط ہیں تو شفاف تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، اور اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوتی ہیں تو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ہر ذمہ دار سے بلاامتیاز رقم وصول کی جانی چاہیے۔ یہ معاملہ کسی فرد کی ذات سے زیادہ ایک اصول کا سوال ہے۔پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے وسائل کیا سب کے لیے ہیں یا بااثر عہدوں پر بیٹھے افراد کے لیے خصوصی سہولت؟ اگر یونیورسٹی انتظامیہ اس سوال کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہی تو 37 لاکھ روپے کی مبینہ ریکوری سے کہیں بڑا نقصان ادارے کے مالی نظم و ضبط، انتظامی شفافیت اور طلبہ کے اعتماد کو پہنچ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی یونیورسٹی ہے جس کے سابقہ وائس چانسلر اپنے ہی باورچی کے ساتھ منہ کالا کرتے ہوئے ویڈیو منظر عام پر آنے کے 7 دن بعد ہی استعفیٰ دے گئے تھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں