ملتان ( سیدقلب حسن سے) نشتر ہسپتال کے بالمقابل جسٹس حمید کالونی کی تنگ گلیوں میں انتظامیہ کی ناک کے عین نیچے غیر قانونی کمرشلائزیشن اور نجی ہسپتا لو ں کی بھرمار نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ کارروائی کا اختیار رکھنے والا سرکاری مافیا بے لگام۔ انتظامیہ کسی بڑے سانحے کی منتظرہے۔ نشتر ہسپتال کے سامنے واقع جسٹس حمید کالونی میں رہائشی علاقے میںبے کمرشلائزیشن نے شہریوں، مریضوں اور ہسپتال آنے والے ہزاروں افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ کسی بھی کلینک یا ہسپتال کا کوئی بھی ایمرجنسی خارجی راستہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی عمارتیں منظور شدہ ہیں جس کی وجہ سے متعلقہ سرکاری عملہ جسٹس حمید کالونی کے ان غیر قانونی ہسپتالوں سےمبینہ لاکھوں روپیہ منتھلی لے رہا ہے۔ متعدد شکایات اور بار بار کی آگاہی کے باوجود متعلقہ اداروں کی خاموشی ایک بڑے سوالیہ نشان کی شکل اختیار کر گئی ہے۔جسٹس حمید کالونی میں چند ہی گلیوں پر مشتمل علاقے میں درجنوں ہسپتال، کلینکس اور دیگر کمرشل سرگرمیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض گلیوں میں بلا اجازت غیر قانونی ہسپتال اور کلینکس قائم ہو چکے ہیں جہاں بڑی ایمبولنس گاڑیوں کا داخلہ بھی مشکل سے ہوتا ہےجبکہ متعدد پلازوں میں بھی طبی مراکز قائم ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کئی عمارتوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب ایمرجنسی ایگزٹ، بیک سائیڈ رسائی یا فائر فائٹنگ کے لیے راستہ بھی موجود نہیں اس لئے آگ لگنے کی صورت میں بھاری جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔ سب سے سنگین سوال یہ ہے کہ خدا نخواستہ کسی ہسپتال یا پلازے میں آگ لگ جائے تو اندر موجود مریض، بزرگ، خواتین اور دیگر شہری اپنی جان بچانے کے لیے کون سا راستہ اختیار کریں گے کیونکہ ان عمارتوں میں باقاعدہ ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی پارکنگ کی سہولت موجود ہے۔ گلیاں گاڑیوں سے بھری رہتی ہیں اور فائر بریگیڈ کے لیے پچھلی جانب سے رسائی کا مناسب انتظام نہیں تو کسی بھی حادثے کی صورت میں چند منٹوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی ہے۔کیا متعلقہ ادارے کسی سانحے کے بعد کارروائی کرنے کا انتظار کر رہے ہیں؟یہ سوال اب شہریوں کی طرف سے کھل کر اٹھایا جا رہا ہے۔رہائشی کالونی یا کمرشل ہسپتالوں کا یہ نیا مرکز جسٹس حمید کالونی بنیادی طور پر رہائشی طرز پر ڈیزائن کیا گیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہاں بڑے پیمانے پر کمرشل ہسپتال اور کلینکس قائم ہو گئے ہیں۔ متعدد ہسپتالوں میں ایک ہی وقت میں درجنوں مریض، تیماردار اور عملہ موجود ہوتا ہے، جبکہ گاڑیوں کی لمبی قطاریں گلیوں اور سڑکوں پر ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم کر دیتی ہیں۔ رہائشی گلیوں کو ایسے کمرشل دباؤ کے لیے استعمال کرنا شہری منصوبہ بندی، پارکنگ، فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔مسئلہ صرف ٹریفک اور فائر سیفٹی تک محدود نہیں۔ رہائشی کالونی کے لیے ڈیزائن کیے گئے بجلی کے نظام پر ہسپتالوں اور کلینکس کی کمرشل سرگرمیوں نے اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔متعدد طبی مراکز میں بڑی تعداد میں ایئر کنڈیشنرز، طبی آلات، لائٹس اور دیگر برقی آلات استعمال ہوتے ہیں، جس کے باعث رہائشی علاقے کے بجلی کے نظام پر غیر معمولی لوڈ پڑ رہا ہے۔ مقامی سطح پر ٹرانسفارمرز کے متاثر ہونے اور بجلی کے نظام پر اضافی دباؤ کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا رہائشی کالونی کے بنیادی انفراسٹرکچر کو کمرشل ہسپتالوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل بنایا گیا ہے اور اگر نہیں تو متعلقہ اداروں نے اس حوالے سے اب تک کیا عملی اقدام کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے کہ جسٹس حمید کالونی کی صورتحال کا فوری طور پر اعلیٰ سطحی نوٹس لیا جائے اور نشتر ہسپتال کے سامنے واقع اس حساس علاقے کا مشترکہ معائنہ کرایا جائے۔ضلعی انتظامیہ، ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، واسا، میپکو اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ ٹیم تشکیل دے کر ہر ہسپتال، کلینک اور کمرشل عمارت کا فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، پارکنگ، بلڈنگ نقشہ، کمرشل استعمال اور بجلی کے لوڈ کے حوالے سے مکمل آڈٹ کرایا جائے۔جو عمارتیں حفاظتی ضوابط پر پورا نہیں اترتیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائےجبکہ غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کی بھی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔انتظامیہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ سانحہ ہونے کے بعد امدادی کارروائی سے بہتر ہے کہ سانحہ ہونے سے پہلے حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔







