ملتان ( خصوصی رپورٹر) اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن ( اے ایس اے ) بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر، رجسٹرار اور بزوٹا کے درمیان جاری تنازع گذشتہ چوتھے روز بھی جاری رہا جس سے جامعہ کا انتظامی و تعلیمی ماحول اور ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔اے ایس اے کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ برادری میں تشویش ہے کہ یونیورسٹی کے اصل مسائل، بالخصوص فیکلٹی کی خالی اسامیوں، زیرِ التواء سلیکشن بورڈز اور اساتذہ کی ترقیوں کے بجائے غیر ضروری تنازع کو طول دیا جا رہا ہے، جبکہ فیکلٹی کی منظور شدہ اسامیوں کی ایڈورٹائزمنٹ میں بھی رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ فیکلٹی کے اشتہارات کیوں روکے جا رہے ہیں؟ اگر کسی اسامی یا اشتہار پر قانونی، مالی یا انتظامی اعتراض ہے تو اسے تحریری طور پر متعلقہ فورم کے سامنے لایا جائےنہ کہ پورے عمل کو غیر ضروری طور پر مؤخر کیا جائے۔اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (ASA) اساتذہ کا جمہوری طور پر منتخب فورم ہے۔ اختلاف ہر فرد کا حق ہے، مگر منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کو چیلنج کرنا، اساتذہ میں تقسیم پیدا کرنا یا غیر مہذب رویہ اختیار کرنا قابلِ مذمت ہے۔اسی طرح کسی بھی ضابطۂ اخلاق (Code of Conduct) کی تشکیل اور نفاذ جامعہ کے ایکٹ، قوانین اور اسٹیچوٹس کے مطابق ہونا چاہیے ۔ اے ایس اے نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامی تنازع فوری طور پر ختم کیا جائے، معاملات متعلقہ قانونی و آئینی فورمز پر حل کیے جائیں اور منظور شدہ فیکلٹی اسامیوں کے اشتہارات بلاجواز تاخیر کے بغیر جاری کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ یونیورسٹی کی ساکھ، اساتذہ کا اتحاد، میرٹ پر بھرتی اور جمہوری مینڈیٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، زکریا یونیورسٹی کسی فرد یا گروہ کی نہیں، پوری علمی برادری کا ادارہ ہے۔
زکریا یونیورسٹی سنڈیکیٹ اجلاس آج، اساتذہ کی سروس منتقلی سمیت اہم فیصلے متوقع
ملتان (خصوصی رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی سنڈیکیٹ کا اجلاس آج 21 اگست 2026ء بروز جمعہ دوپہر 12 بجے ایڈمنسٹریشن بلاک کے کمیٹی روم میں ہوگا جس میں اہم انتظامی و مالی فیصلوں، اساتذہ کی سروس ٹرانسفرز، پی پی پی ایکٹ 2025، اعزازیہ میں اضافے، داخلوں سے متعلق شکایات اور نجی اداروں سے مفاہمتی یادداشت سمیت 20 اہم امور زیرغور آئیں گے۔ رجسٹرار کی جانب سے جاری ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں مجموعی طور پر 20 نکات زیر بحث آئیں گے اور ان میں فیصلے کیے جائیں گے، اجلاس کی صدارت وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کریں گے ۔ ایجنڈا آئٹمز میں گزشتہ 19 جون کو ہونے والے سنڈیکیٹ اجلاس کی کارروائی اور اس پر کیے گئے اقدامات کی منظوری کے علاوہ وائس چانسلر کی جانب سے یونیورسٹی ایکٹ 1975ء کی متعلقہ شقوں کے تحت سنڈیکیٹ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو بھی زیر غور لانا شامل ہے جبکہ اجلاس میں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی اور سال 2026-27ء کے بجٹ تخمینوں پر بھی غور اور اہم فیصلے ہوں گے، لائبریری کمیٹی کے چیئرمین و اراکین اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے رکن کی نامزدگی بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔سنڈیکیٹ میں فیکلٹی ممبران کے سروس ٹرانسفرز کے متعدد معاملات بھی زیرغور آئیں گے۔ انسٹی ٹیوٹ آف ایگرانومی کے فیکلٹی ممبران کی سروسز کی منتقلی، بنیادی سائنسز کے فیکلٹی ممبران کو متعلقہ شعبہ جات میں منتقل کرنے کے معاملے کے علاوہ شعبہ قانون کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد احسن اقبال ہاشمی کو بی زیڈ یو سب کیمپس وہاڑی سے گیلانی لاء کالج ملتان منتقل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔اسی طرح کمپیوٹر سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر رانا امیر رضا کی شعبہ کمپیوٹر سائنس سے شعبہ کمیونیکیشن اینڈ سائبر سکیورٹی میں سروس منتقلی کا معاملہ بھی سنڈیکیٹ کے سامنے رکھا جائے گا۔اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ایکٹ 2025ء کو اپنانے کی تجویز بھی زیرغور آئے گی، جبکہ پنجاب حکومت کے سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ریگولیشنز/او اینڈ ایم ونگ کی جانب سے جاری خط کو اپنانے کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سنڈیکیٹ اعزازیہ (Honorarium) میں اضافے کی تجویز پر بھی غور کرے گی،جبکہ محمد ندیم انجم کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن سے متعلق معاملہ بھی اجلاس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ایجنڈے میں پنجاب محتسب کے احکامات سے متعلق اہم معاملہ بھی شامل ہے جس میں ایف ایس سی میں 45 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والے طالب علم کے بی ایس سی (آنرز) ایگریکلچر میں داخلے کے کم از کم اہلیت کے معیار سے متعلق شکایات کا جائزہ لیا جائے گا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر سمزہ فاطمہ کی پروجیکٹ ڈائریکٹر/ڈائریکٹر لاء اسٹڈی سنٹر کے عہدے پر نامزدگی اور یونیورسٹی انجینئر ملک محمد رفیق ہمڑ کی جوائننگ رپورٹ کا معاملہ بھی زیرغور آئے گا۔
بزوٹا کا اے ایس اے پر حقائق مسخ کرنے کا الزام، سینیارٹی کیخلاف ٹرانسفرز مسترد
ملتان ( خصوصی رپورٹر) بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن ( بزوٹا ) کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر خاور نوازش نے کہا ہے کہ بزوٹا کی طرف سے اساتذہ کا ایک وفد گزشتہ تین روز سے سربراہِ ادارہ سے ملنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن انہیں نہیں سنا گیا جس سے تشویشناک صورتحال پیدا ہوئی۔ موجودہ اکیڈ مک سٹاف ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری کردہ بیان میں حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ ہمارا اے ایس اے سے کوئی تنازعہ پہلے تھا نہ ہی اب ہے۔ متوقع سینڈیکیٹ کے ایجنڈے ، نئے اشتہار اور سلیکشن بورڈ کے حوالے سے ہمارے چند تحفظات تھے جو ہم انتظامیہ کے گوش گزار کرنا چاہتے تھے، جوبالآخر آج کی ملاقات میں ان کے سامنے رکھے گئے۔ وائس چانسلر کی طرف سے اپنا دفتر کرش ہال میں لگانے کے واقعے کا بھی بزوٹا کی ملاقات کی کوشش سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ خود وائس چانسلر مختلف اساتذہ ،انتظامی افسران اور صدر اے ایس اے کی موجودگی میں کرش ہال میں بیٹھے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ اے ایس اے نے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے ڈائریکٹر کی تعیناتی کے معاملے میں سینیئر فیکلٹی ممبر کے ہوتے ہوئے تیسرے نمبر پر موجود ایک اُستاد کو تعینات کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جس کے بعد انھوں نے اپنا دفتر چھوڑا اور کرش ہال منتقل ہوئے۔ اسی اثنا میں جب بزوٹا وفد نے اُنھیں میٹنگ کے لیے کمیٹی روم میں آنے کی گزارش کی تو وہ بھی رَد کر دی گئی۔ اُن کا اصرار تھا اب وہ سیاسی نمائندوں سے اپنے اوپن آفس میں ہی بات کریں گے۔ڈیڈلاک اسی صورتحال میں طوالت اختیار کر تا گیا اور بالآخر گزشتہ روز انھوں نے اساتذہ سے ملاقات کی جس میں چند نکات اُن کے سامنے رکھے گئے۔ وائس چانسلر نے اساتذہ وفد کو یقین دلایا کہ سینڈیکیٹ ایجنڈے اور اشتہار کے معاملے پر اُن کے تحفظات کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اے ایس اے کی طرف سے غلط بیانی اور سارے معاملے کو تنازعہ کا رنگ دینے کو حقائق کے منافی سمجھتے ہوئے، اساتذہ کمیونٹی کو بتانا چاہتے ہیں کہ بزوٹا کے مطابق کسی بھی شعبے میں خلافِ قانون ٹرانسفرز کے ذریعے وہاں پہلے سے موجود اساتذہ کی سنیارٹیز ڈسٹرب کرنا ہمارے لیے قابلِ قبول نہ ہوگا۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ یونیورسٹی سینڈیکیٹ اس معاملے پر مثبت کردار ادا کرے گی اور اے ایس اے کی نمائندگان مختلف لوگوں کی آواز کو دبانے کے بجائے اس مدعے پر حق کا ساتھ دیں گے۔اے ایس اے کا کام میرٹ کو انشیور کروانا، اور پوری فیکلٹی کی برابر نمائندگی ہونا چاہیے ۔ کسی شعبے کے ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لیے یونیورسٹی قواعد اور سینڈیکیٹ رُولز کے خلاف انتظامیہ یا وائس چانسلر پر دباؤ ڈالنا اے ایس اے کے مینڈیٹ کے منافی ہے۔ اے ایس اے کا یہ بیان کہ بزوٹا اشتہار کے خلاف ہے، اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پروموشنز کے لیے اشتہار فوری جاری ہونا چاہیے، لیکن وہ اشتہار جس بھی کرائیٹیریا کی بنیاد پر ہواُسے پبلک کیا جائے۔ اساتذہ کو اندھیرے میں رکھ کر اُن کے حقوق پر ڈاکہ نہ ڈالا جائے۔ شعبوں نے جو مختلف ڈیمانڈز ایس پی سی کو بھجوائی تھیں، اُن کی روشنی میں اشتہار دیا جائے۔ ہماری مصدقہ اطلاعات کے مطابق ٹوٹل پچاس سے ساٹھ سیٹوں(پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ) کے لیے اشتہار تیارہوا، جس میں اے ایس اے اپنے پسندیدہ لوگوں کو نوازنے کے لیے دوسرے شعبوں کی سیٹوں پر شب خون مارنے کی کوشش کی ہے ۔ کسی شعبے میں کم داخلوں کو اہل اساتذہ کی ترقی سے جوڑنا غیر مناسب ہے۔ ہم اشتہار روکنے کے نہیں بلکہ یونیورسٹی قواعد، میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق اشتہار چاہتے ہیں، جس کے لیےانتظامیہ کے سامنے ہم اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ ہمیں اُمید ہے کہ اےایس اے بھی الزام تراشی چھوڑ کرقواعد، میرٹ اور انصاف کی آواز میں اپنی آواز شامل کرے گی۔
وی سی ڈاکٹر زبیر غوری چوتھے روز بھی کرش ہال میں کرسی لگا کر دفتری امور انجام دیتے رہے
ملتان ( خصوصی رپورٹر) بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کا چوتھے روز بھی کرش ہال میں آفس قائم رہا اور وہ کرش ہال میں ہی کرسی لگا کر دفتری امور انجام دیتے رہے۔ اس موقع پر اساتذہ ، ملازمین نے بھی وائس چانسلر سے ملاقاتیں کیں۔ تاہم وائس چانسلر کی جانب سے اساتذہ اور ملازمین کی سیاست کے باعث جاری احتجاجی طور پر کرش ہال میں موجودگی کے معاملے پر اساتذہ اور ملازمین کے درمیان مذاکرات بھی جاری رہے ۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک ضابطہ اخلاق ( کوڈ آف کنڈکٹ) بھی تیار کرلیا گیا ہے جس پر ڈیڈ لاک برقرار ہے اور آخری اطلاعات تک پر فریقین کے دستخط نہیں ہوسکے تھے ۔







