ملتان (قوم ریسرچ سیل )ایمپلائی کوڈ بجلی چوری کاموثر ہتھیاربن گیا،بجلی چور واپڈاملازمین خود ایک دوسرے کے سہولت کاربن گئے،بڑی تعداد میں واپڈا ملازمین بجلی چوری میں ملوث نکلے۔ایک دوسرے کوتحفظ، چشم پوشی پر اتحاد واتفاق رائے،شرمناک حقائق سامنے آگئے۔بجلی چوری پر کارروائیاں،ایف آئی آرز وجرمانے عام صارفین تک محدود،بجلی چوروں کیخلاف کارروائی کرنے والے خود سوالیہ نشان بن گئے۔ذرائع کے مطابق میپکوسمیت بجلی کمپنیوں میں بجلی چوری کے خلاف کارروائیاں کرنے والے محکمہ بجلی کے بیشتر ملازمین کے اپنے گھروں میں ہی مبینہ بجلی چوری کے انکشافات نے محکمہ جاتی نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بجلی چوری کے معاملے میں واپڈا کے بڑی تعدادمیں ملازمین ایک دوسرے کے خلاف کارروائی یا نشاندہی سے گریز کرتے ہیں، جس کے باعث مبینہ طور پر ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرنے کا سلسلہ قائم ہے۔ مختلف ملازمین کے گھروں میں مبینہ طور پربوگس و ٹیمپرڈ میٹرز،میٹرریورس، غیر قانونی وائرنگ یا ڈائریکٹ سپلائی سے بجلی چوری کرنے کے معاملات موجود ہیں،مجموعی طورپرہرماہ کروڑوں یونٹس یعنی اربوں روپے کی بجلی چوری واپڈاافسران وملازمین خود کرتے ہیں اوراس کانقصان بے قصورصارفین کوناجائزوظالمانہ بھاری ڈ ٹیکشن بلزڈال کرپوراکیاجاتاہے۔ تاہم متعلقہ سب ڈویژن،ڈویژن ،سرکل و چیف آفس کی چیکنگ ٹیمیں مبینہ طور پر ان کنکشنز کے خلاف وہ کارروائی نہیں کرتیں جو عام صارفین کے خلاف معمول کے مطابق کی جاتی ہے۔ شکایات کی صورت میں بھی مبینہ طور پر معاملہ رفع دفع کرنے یا صرف میٹر کو گھر سے باہر منتقل کرنے تک محدود رہنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔کوئی کوئی دبنگ،فرض شناس دیانتدارآفیسرہی واپڈاملازمین کی بجلی چوری پکڑنے کاحوصلہ رکھتاہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض گھروں میں بجلی کی تار پہلے گھر کے اندر یا دیوار کے اندر سے گزار کر میٹر تک پہنچائی جاتی ہے، جس سے بجلی کے استعمال کی اصل صورتحال چھپانے میں مدد ملتی ہے۔ بعض ملازمین کے گھروں میں متعدد ایئرکنڈیشنرز سمیت بھاری برقی آلات استعمال ہونے کے باوجود کم ریڈنگ ظاہر ہونے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ایک دوسرے کو نہ پکڑنے کی مبینہ مفاہمت موجودہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ ملازمین میں خفیہ طور پر یہ مفاہمت پائی جاتی ہے کہ کوئی ملازم اپنے گھر میں بجلی چوری کرے تو دوسرا ملازم اسے نہ پکڑے اور نہ ہی اس کے خلاف رپورٹ کرے۔ اسی مبینہ مفاہمت کے تحت ایک دوسرے کو سہولت اور تحفظ فراہم کیے جانے کا دعویٰ ہے، جبکہ بجلی چوری کے خلاف کارروائی کا دائرہ زیادہ تر عام صارفین تک محدود رہنے کی شکایات ہیں۔ذرائع کے مطابق اگرواپڈا ملازمین کے کسی کنکشن کے خلاف اعلیٰ سطح پر شکایت پہنچ بھی جائے تو کارروائی کے بجائے بعض اوقات اسے رسمی کارروائی تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے کئی کنکشنز پر سوالات اٹھ رہے ہیں جہاں بجلی کے استعمال اور میٹر ریڈنگ میں واضح فرق موجود ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ سب واپڈا افسران وملازمین بجلی چوری میں ملوث نہیں ہیں، وہ اپنے بلز دیانتداری سے اداکررہے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت ہی کم ہے، مختلف افسران وملازمین نے اپنے گھروں میں سولر سسٹم بھی لگارکھے ہیں لیکن ایسے افسران وملازمین بہت کم ہیں۔عوامی حلقوں نے وفاقی پاور ڈویژن، بجلی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام اور دیگر نگرانی کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واپڈا ملازمین کے بجلی کنکشنز کی خصوصی، اچانک اور غیرجانبدارانہ چیکنگ کرائی جائے۔ تمام میٹروں، وائرنگ اور گزشتہ ریڈنگز کا ریکارڈ چیک کرکے جہاں بجلی چوری ثابت ہو وہاں ملازم اور عام صارف میں کوئی فرق نہ رکھا جائے۔اس حوالے سے میپکو حکام کا مؤقف ہے کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائی میں کسی ملازم یا افسر کو خصوصی رعایت حاصل نہیں۔ جو بھی شخص بجلی چوری میں ملوث پایا جائے، اس کے خلاف قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جاتی ہے۔ حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ بجلی چوری کی نشاندہی متعلقہ ٹول فری نمبروں اور شکایتی نظام کے ذریعے کریں تاکہ شکایت کی تصدیق کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔







