ایمرسن یونیورسٹی میں لمپ سمپ و کنٹریکٹ بھرتیوں کا نوٹیفکیشن، قانونی حیثیت پر سوالات

ملتان (سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ کی جانب سے مستقبل میں ہونے والی بھرتیوں کے لیے لمپ سمپ پیکج اور کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرریوں سے متعلق جاری کیے گئے نوٹیفکیشن نے یونیورسٹی کے قانونی و انتظامی حلقوں میں سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر EUM-Admin/R-59279 مورخہ 12 اگست 2026 کے مطابق یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے 14 جولائی 2026 کو ہونے والے آٹھویں اجلاس میں حکومتِ پنجاب کی کنٹریکٹ بنیادوں پر اسامیوں کی بھرتی سے متعلق پالیسی اپنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں قرار دیا گیا ہے کہ مستقبل میں BS-1 تا BS-16 کی اسامیاں لمپ سمپ بنیادوں پر پُر کی جائیں گی جبکہ BS-17 اور اس سے اوپر کی تدریسی و غیر تدریسی اسامیاں بنیادی پے سکیلز میں کنٹریکٹ بنیادوں پر پُر کی جائیں گی۔ مزید برآںلمپ سمپ اور کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرری کے لیے متعلقہ بنیادی پے سکیل کے تحت قابلِ ادائیگی مجموعی تنخواہ کے مساوی پیکیج اور مجموعی تنخواہ پر سالانہ 10 فیصد انکریمنٹ دینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم اس نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت پر روزنامہ قوم کی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ اور سٹیچوٹس میں BS-1 تا BS-16 اسامیوں پر لمپ سمپ بنیادوں پر تقرری کا واضح اختیار موجود نہیں۔ ان کے مطابق محض سنڈیکیٹ کی جانب سے کسی حکومتی پالیسی کو اپنانے کی منظوری دے دینا اس وقت تک کافی نہیں ہو سکتا جب تک یونیورسٹی کے متعلقہ ایکٹ، سٹیچوٹس، قواعد و ضوابط اس نوعیت کی تقرری کی اجازت نہ دیتے ہوں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر یونیورسٹی کے سٹیچوٹس میں کسی مخصوص نوعیت کی تقرری کا طریقہ کار درج نہ ہو تو انتظامیہ کو براہِ راست نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بجائے پہلے مجاز قانونی فورم کے ذریعے سٹیچوٹس میں ضروری ترمیم یا منظوری کا باقاعدہ قانونی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا سنڈیکیٹ کو موجودہ سٹیچوٹس سے ہٹ کر ایک نئی نوعیت کی تقرری کا طریقہ متعارف کرانے کا اختیار حاصل تھا یا نہیں۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ نوٹیفکیشن میں BS-17 اور اس سے اوپر کی تمام تدریسی و غیر تدریسی اسامیوں کو کنٹریکٹ بنیادوں پر پُر کرنے کا عمومی اصول وضع کیا گیا ہے، جبکہ یونیورسٹی کے بعض عہدوں کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ ان پر تقرری کا طریقہ کار عام کنٹریکٹ یا ریگولر تقرری سے مختلف ہے۔ ذرائع نے بالخصوص ریذیڈنٹ آڈیٹر کی مثال دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اگر متعلقہ سٹیچوٹس میں یہ عہدہ مخصوص طریقہ کاربالخصوص ڈیپوٹیشن کے ذریعے پُر کیے جانے کے زمرے میں آتا ہے تو اسے محض ایک عمومی پالیسی نوٹیفکیشن کے ذریعے کنٹریکٹ یا ریگولر تقرری کے دائرے میں لانے کا اختیار انتظامیہ کے پاس کیسے آ سکتا ہے؟ اس حوالے سے یونیورسٹی کے سٹیچوٹس کی متعلقہ شقوں اور نوٹیفکیشن کے درمیان مطابقت کا جائزہ لینا ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو کسی بھی نئی بھرتی یا تقرری کی پالیسی مرتب کرتے وقت سب سے پہلے ایمرسن یونیورسٹی ایکٹ، سٹیچوٹس، متعلقہ قواعد و ضوابط اور مجاز اتھارٹی کے اختیارات کا جائزہ لینا چاہیے تھا، کیونکہ انتظامی نوٹیفکیشن کسی ایسے قانونی اختیار کو ازخود پیدا نہیں کر سکتا جو بنیادی قانون یا سٹیچوٹس میں موجود ہی نہ ہو۔ اس صورتحال پر وائس چانسلر، رجسٹرار اور یونیورسٹی کی لیگل برانچ کی ذمہ داری بھی زیرِ بحث آ گئی ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل کیا یونیورسٹی کے متعلقہ سٹیچوٹس کا قانونی جائزہ لیا گیا؟ اگر لیا گیا تو کیا متعلقہ شق میں BS-1 تا BS-16 لمپ سمپ تقرری اور BS-17 سے اوپر کی اسامیوں پر عمومی کنٹریکٹ تقرری کی واضح اجازت موجود ہے؟ اور اگر ایسی اجازت موجود نہیں تو پھر اس پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے قانونی طریقہ کار کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ تعلیمی و قانونی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن کی ایکٹ اور سٹیچوٹس کی متعلقہ شقوں کی روشنی میں مکمل قانونی جانچ کرائی جائے اور اگر اس میں کسی ایسی تقرری کا طریقہ متعارف کرایا گیا ہے جس کی موجودہ سٹیچوٹس میں اجازت نہیں تو اسے نافذ کرنے سے قبل باقاعدہ قانونی ترمیم اور مجاز منظوری کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق معاملہ محض ایک انتظامی نوٹیفکیشن کا نہیں بلکہ یونیورسٹی کے قانونی اختیارات اور سٹیچوٹس کی بالادستی کا ہے۔ اگر سٹیچوٹس کسی مخصوص عہدے کے لیے مخصوص طریقۂ تقرری مقرر کرتے ہیں تو انتظامیہ، خواہ وائس چانسلر ہو، رجسٹرار ہو یا کوئی انتظامی شعبہ، اس سے انحراف محض ایک داخلی نوٹیفکیشن کے ذریعے نہیں کر سکتا۔ اہم سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل اپنے ہی سٹیچوٹس کا مطالعہ کیا یا نہیں؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں