لاہور(بیورورپورٹ)سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے اعلان کیا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے فوری قیام کے لئے آئینی ترمیمی بِل قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش کیاجائے گا۔ جس کا مسودہ تیار کرلیاگیا ہے۔ سیاسی رہنما عمران ریاض کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی درانی نے دیا دلایا کہ مسلم لیگ (ن) 29 جنوری 2019 کو بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کرچکی ہے۔ بہاولپور اور ہزارہ کے عوام جائز طورپر یہ توقع رکھتے ہیں کہ حکمران جماعتیں، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت بلاتاخیر اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے اپنے وعدے کا پاس رکھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی بحث ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ میں نے یہ جدوجہد2008 میں شروع کی تھی اور الحمداللہ آج 18 سال بعد پوری قوم میں یہ عمومی اتفاق رائے ہوچکا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنائے جائیں ۔ یہ ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو انتظامی، معاشی اور سماجی مسائل کی دلدل سے نکال سکتا ہے۔ محمد علی درانی نے کہاکہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے جاری بحث میں ایک نمایاں پہلو یہ حقیقت ہے کہ بہاولپورصوبہ کی بحالی اور ہزارہ صوبہ کے قیام پر حکمران جماعتوں سمیت تمام سیاست دان متفق ہیں جبکہ یہ محسن نقوی فارمولا اور میاں عامر محمود کے ڈویژن والے فارمولے پر بھی پورا اترتے ہیں۔ بہاولپور صوبہ کی بحالی اور ہزارہ صوبے کے قیام کے آئینی اور سیاسی تقاضے پورے ہوچکے ہیں۔ اِن دونوں صوبوں کا قیام بغیر کسی رکاوٹ کے فوری طورپر ممکن ہے۔ محمد علی درانی نے مطالبہ کیا کہ پہلے مرحلے میں بہاولپور صوبہ کو بحال اور ہزارہ صوبہ کو قائم کیاجائے ۔ یہ دونوں صوبے گورننس کا ایک نیا ماڈل بن کر سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ ان دونوں صوبوں کا قیام فوری طور پر پاکستان کی زرعی معیشت کی مضبوطی اور معاشی استحکام کے دروازے کھول دے گا۔ بہاولپورصوبہ پورے پاکستان کی فوڈ باسکٹ بنے گا جہاں چولستان کا64 لاکھ ایکڑ رقبہ پاکستان کی تمام غذائی ضروریات کو پوری کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ یہ صوبہ پاکستان کی فوڈ سکیورٹی یقینی بنائے گا جو قومی سلامتی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہزارہ صوبہ ہائیڈل پاور، معدنیات، پھلوں، سی پیک اور سیاحت کا مرکز بنے گا۔ اِن دو صوبوں کو مکمل بلدیاتی نظام کے ساتھ صوبے بنا کر ملک کے عوام کے سامنے شو کیس کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اِن دونوں صوبوں میں نہ وڈیرے ہیں اور نہ ہی دہشت گرد۔ یہ دونوں صوبے گُڈ گورننس اور پبلک امپاورمنٹ کی مثال بنیں گے۔ سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہاکہ انشائ اللہ یہ دونوں صوبے وڈیروں سے پاک نوجوانوں کے صوبے بنیں گے۔ ایک سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ یہ پیش رفت ڈائیلاگ کا نتیجہ ہے ۔ ڈائیلاگ سے ہی سیاسی استحکام آسکتا ہے اور صوبے بھی بن سکتے ہیں۔







