ملتان (قوم ریسرچ سیل)ملتان میں ہیوی نیٹ میٹرنگ کے متنازع کیس فاسٹ سی این جی ریفرنس نمبر 27151210082606 میں مزید اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پوسٹل آرڈرزپر ایکسین ایم اینڈ ٹی کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں، میٹر میپکو فیلڈسٹور سے جاری ہوکر ایم اینڈ ٹی کی تحویل میں پہنچ چکا ہے جبکہ صارف ڈیمانڈ نوٹس بھی جمع کراچکا ہے، اس کے باوجود گزشتہ 8 ماہ سے کنکشن اور میٹر کی تنصیب نہیں کی جارہی۔ذرائع کے مطابق ایم اینڈ ٹی ملتان نے کیس کی سائٹ چیکنگ اور انسپکشن رپورٹ جاری کی جس کی بنیاد پر کیس میپکو کے متعلقہ آپریشن افسران سے ہوتا ہوا نیپرا تک پہنچا۔ نیپرا نے منظوری دے کر باقاعدہ نیٹ میٹرنگ لائسنس بھی جاری کردیا، تاہم بعدازاں صارف کیساتھ ’’ڈیل‘‘میں مطلوبہ ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر ایم اینڈ ٹی کی جانب سے سائٹ پر اعتراض اٹھا کر کیس روک دیا گیااورصارف کوہی اس کاذمہ دارٹھہرایاگیاہے کہ اس نے ’’ڈیل‘‘ ” کامعاملہ لیک کیوں کیا۔اس طرح 8 ماہ سے کنکشن کی انسٹالیشن روکی گئی ہے۔میپکوکے ٹیکنیکل ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سائٹ یا کیس میں کوئی بنیادی خرابی تھی تو اعتراض ابتدائی انسپکشن کے وقت سامنے آنا چاہیے تھا۔ نیپرا سے منظوری اور لائسنس کے بعد اعتراض اٹھنے سے ایم اینڈ ٹی کی ابتدائی رپورٹس کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس ایک کیس کے سامنے آنے کے بعد ایم اینڈ ٹی کی دیگر نیٹ میٹرنگ سائٹ چیکنگ و انسپکشن رپورٹس بھی سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام مشتبہ کیسز کی فائلوں کے مطابق متعلقہ سائٹس کی دوبارہ فزیکل چیکنگ کرائی جائےکیونکہ ذرائع کے مطابق اس نوعیت کے متعدد کیسز مبینہ طور پر دبے ہوئے ہیں۔عوامی حلقوں نے چیف ایگزیکٹو میپکو سے مطالبہ کیا ہے کہ نیپرا کی کارروائی سے قبل معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔اس حوالے سے میپکو کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تاہم فون اٹینڈ نہ ہونے کے باعث رابطہ نہ ہوسکا۔







