تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراقی کردستان کے وزیر اعظم کے دفتر پر ہونے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کرد عوام اور حکام کو ممکنہ ’فالس فلیگ آپریشنز‘ سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں حملے کو ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کردستان کے دوست ہمسایوں کو ایسی کوششوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جن کا مقصد باہمی اختلافات اور خطے میں انتشار کو ہوا دینا ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں صدام حسین کی حکومت اور داعش کے خلاف کرد عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے، جبکہ اپنی سرحد پر سکیورٹی برقرار رکھنے میں کردستان کے تعاون کو بھی ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
عراق کے کردستان ریجن کی حکومت کے مطابق دو ڈرونز نے خطے کے وزیر اعظم کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ حکام نے بتایا کہ حملے میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
واقعے کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال اور جاری کشیدگی پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایرانی حکام نے فی الحال کسی فریق کو حملے کا براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا، تاہم ممکنہ ’فالس فلیگ‘ کارروائیوں کے خدشے پر خبردار کیا ہے۔
Nothing justifies the reckless attack on PM Barzani's office. Kurdish friends should be vigilant against false-flag ploys to sow discord between neighbors.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) August 17, 2026
We protected our Kurdish friends against Saddam and DAESH, and we're thankful for security they've provided on our border.







