عمران خان کی اسپتال منتقلی، سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد کریں گے: طارق فضل چوہدری-عمران خان کی اسپتال منتقلی، سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد کریں گے: طارق فضل چوہدری-سپریم کورٹ کا عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم، اہلخانہ اور ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت-سپریم کورٹ کا عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم، اہلخانہ اور ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت-اسٹیج اداکارہ عروج پر تشدد اور مبینہ زیادتی کیس، عدالت کا ملزم ناصر خان کو عبوری ریلیف-اسٹیج اداکارہ عروج پر تشدد اور مبینہ زیادتی کیس، عدالت کا ملزم ناصر خان کو عبوری ریلیف-عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم، اسلام آباد میں سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس طلب-عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم، اسلام آباد میں سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس طلب-پی ایس ایل 12 کی تیاریوں کا آغاز، اگلے سیزن کے لیے منصوبہ بندی شروع-پی ایس ایل 12 کی تیاریوں کا آغاز، اگلے سیزن کے لیے منصوبہ بندی شروع

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم، اہلخانہ اور ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آئندہ سماعت تک اسلام آباد کے الشفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ اہلخانہ سے ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی کی بھی ہدایت کردی گئی۔
عمران خان سے بہن عظمیٰ خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان سمیت متعلقہ ڈاکٹروں کو ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔ عدالت نے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی، جس میں ماہر امراض چشم، جنرل میڈیسن کے ماہر اور ڈاکٹر فیصل سلطان شامل ہوں گے۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور پارلیمانی سیکریٹری شاہد خٹک نے یقین دہانی کرائی کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے بعد وہاں کسی قسم کی سیاسی سرگرمی نہیں کی جائے گی۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اسپتال میں دیگر مریض بھی زیر علاج ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی سیاسی سرگرمی، میڈیا ٹاک یا اجتماع سے گریز کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹس کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
عمران خان کے علاج کے اخراجات ان کے اہلخانہ کی جانب سے ادا کیے جائیں گے، جبکہ حکومت کو اہلخانہ کے ساتھ ہفتہ وار ملاقات کا انتظام کرنے اور بانی پی ٹی آئی کو بچوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کرلیا
سماعت کے دوران عدالت نے عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت سے قبل تمام رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو صرف میڈیکل سمری نہیں بلکہ مکمل ریکارڈ درکار ہے۔
عدالت میں عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹس کا بھی ذکر ہوا۔ وکیل عزیر بھنڈاری نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کے طبی مسائل کی وجوہات سامنے آنا ضروری ہیں، جبکہ عدالت نے متعلقہ میڈیکل ریکارڈ اور ان کے علاج سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔
بہنوں سے ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی طلب
سپریم کورٹ نے عمران خان سے ان کی بہنوں کی گزشتہ تین سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ عدالت نے بچوں سے ٹیلی فونک رابطے اور ملاقاتوں سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ بہنوں سے ملاقات کسی پر احسان نہیں بلکہ بنیادی حق ہے اور ریاست کو بھی قانون کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے یقین دہانی کرائی کہ عمران خان سے ملاقات کرنے والے اہلخانہ اور ذاتی ڈاکٹرز میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے۔
اسپتال میں سیاسی سرگرمی پر پابندی
عدالت نے واضح کیا کہ الشفاء اسپتال کے باہر کسی قسم کا سیاسی اجتماع، پریس کانفرنس یا سیاسی سرگرمی نہیں ہونی چاہیے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں اسپتال منتقلی کا حکم واپس بھی لیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالتی حکم کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو اس معاملے میں باضابطہ نوٹس نہیں دیا گیا اور عمران خان کو فوری طور پر اسپتال منتقل نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عمران خان کی صحت کے پیش نظر مناسب طبی سہولت بنیادی حق ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی۔
سماعت سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عدالتوں سے امید ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں