عمران خان کی اسپتال منتقلی، سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد کریں گے: طارق فضل چوہدری-عمران خان کی اسپتال منتقلی، سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد کریں گے: طارق فضل چوہدری-سپریم کورٹ کا عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم، اہلخانہ اور ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت-سپریم کورٹ کا عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم، اہلخانہ اور ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت-اسٹیج اداکارہ عروج پر تشدد اور مبینہ زیادتی کیس، عدالت کا ملزم ناصر خان کو عبوری ریلیف-اسٹیج اداکارہ عروج پر تشدد اور مبینہ زیادتی کیس، عدالت کا ملزم ناصر خان کو عبوری ریلیف-عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم، اسلام آباد میں سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس طلب-عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم، اسلام آباد میں سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس طلب-پی ایس ایل 12 کی تیاریوں کا آغاز، اگلے سیزن کے لیے منصوبہ بندی شروع-پی ایس ایل 12 کی تیاریوں کا آغاز، اگلے سیزن کے لیے منصوبہ بندی شروع

تازہ ترین

گستاخ (قسط اول)

تیرا کیا جاتا جو نہ مرتا کوئی دن اور۔۔

میاں صاحب، السلام علیکم، میں حرم پاک مکہ شریف میں ہوں۔ میاں صاحب، السلام علیکم، میں مدینے میں ہوں روضہ رسول کے سامنے کھڑا ہوں، آئیے میرے ساتھ دعا کر لیجئے، اس کا موبائل کیمرہ آن ہوتا تھا اور وہ گڑگڑا کر، رقت آمیزی میں ڈوب کر میرے لیے دعا کیا کرتا تھا۔ اللہ پاک میاں صاحب کو صحت دینا، اللہ پاک میاں صاحب کو اپنے بچوں پر سلامت رکھنا، اللہ پاک میاں صاحب کے بچوں کو بہت ترقی دینا، اللہ پاک میاں صاحب کی والدہ اور اہلیہ کو جنت میں اعلی مقام دینا، وہ دعا کرتا جاتا تھا اور میں آمین آمین کہتا رہتا تھا۔ رقت آمیز دعا کے بعد وہ مجھے کہا کرتا تھا ‘لئو میاں صاحب روضہ پاک تے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نون سلام کرو” اور پھر موبائل کا کیمرہ روزہ رسول کی طرف کر دیتا تھا۔ میاں فراز کی یہ 2017 سے روٹین تھی کہ ہر رمضان المبارک وہ مدینے شریف میں روضہ رسول پر سحری اور افطاری کی ڈیوٹی دیتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمانوں کی خدمت میں ساری رات جاگتا تھا کہ وہ ایک پاکستانی فیملی کی طرف سے روضہ رسول پر دسترخوان کا خادم ہوتا تھا۔ مجھے ہر روز ویڈیوز بھیجا کرتا تھا ان میں سے کچھ میرے موبائل میں محفوظ ہیں مگر وہ نہیں رہا۔ فراز، یہ ہر سال تمہاری ہی مہربانی ہوا کرتی تھی کہ میری پاکستان میں بیٹھ کر حرم پاک اور روضہ اقدس پر حاضری ہو جایا کرتی تھی۔۔ یار میاں فراز، میں بھی دوسروں کی طرح لالچی ہوں، یہ نہیں سوچ رہا تھا تمہاری فیملی پر کیا بیت رہی ہو گی؟ یہ نہیں سوچ رہا کہ تمہارے بچے اتنی کم عمری میں یتیم کہلائیں گے کہ جزوی طور پر نظر انداز ہونے کی بنا پر مسکین تو وہ پہلے ہی تھے۔
اس قلم کار کے ذہن میں یہ خبر ملتے ہی کہ فراز بھائی جان کا انتقال ہو چکا ہے، سرسراہٹ پھیل گئی، ہائی وے پر گاڑی میں بیٹھے بیٹھے میرا جسم کانپنے لگ گیا اور میں نے اپنے ساتھ ڈرائیونگ کرتے ہوئے محمود سے کہا کہ اے سی بند کر دو پہلا سوال یہی ذہن میں آیا یار فراز اب میرے لیے دعائیں کون کیا کرے گا اور کون پاکستان میں رہتے ہوئے روضہ رسول پر میری حاضریاں لگوایا کرے گا۔ آج زندگی میں پہلی مرتبہ میرے لیے لکھنا مشکل ہو رہا ہے اور میرے قلم کا سر قلم ہوا سا لگتا ہے۔ یار فراز، توں تو ہمیشہ خوشیاں بانٹتا تھا یہ تم نے اچانک اتنا بڑا دکھ بانٹنے کا فیصلہ آخر کر کیسے لیا؟ تمہیں کس نے اختیار دیا کہ تم سالہا سال کی محبتوں خدمتوں اور دعاؤں کو ایک لمحے میں اذیت دکھ اور تکلیف میں بدل کر رکھ دو۔ یار دکھ بانٹنے والے دکھ دیا نہیں کرتے۔ تم تو دوسروں کے دکھ درد کا رتی بھر بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا یہ تم نے اپنے اوپر منوں مٹی کا بوجھ کیسے اٹھا لیا۔ فراز میاں توں تو رشتے جوڑنے والا تھا توں تو لوگوں کو دوسروں سے ملوا کر خوش ہوتا تھا توں تو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے جاتا تھا آئیے فلاں صاحب کی طرف چلیں، آئیں آپ کو فلاں دوست سے ملواؤں، یہ تم نے رشتے توڑنے اچانک کیسے اور کہاں سے سیکھ لئے۔ فراز مجھے بخوبی یاد ہے کہ جب فضیل ایک ناکردہ گناہ کا عذاب بھگت رہا تھا تو تم اس کے لیے کتنا تڑپا کرتے تھے اور کیسے گھنٹوں اس کے ملاقات کے لیے کھڑے رہتے تھے۔
میرے دفتر کی سائیڈ ٹیبل پر ابھی تک اب بھی زمزم عجوہ اور عنبر کی کھجوروں کا وہ پیکٹ پڑا ہے جو تم اس مرتبہ عید الفطر کے بعد مدینہ شریف سے واپسی پر مجھے دے کر گئے تھے اور وہ عود کا پرفیوم تو میں باقاعدہ استعمال کرتا ہوں جو کہ اب بھی میرے بیگ میں پڑا ہے۔
ہر کسی نے اس دنیا میں آ کر واپس جانا ہے اور جب اللہ تبارک و تعالی اپنے محبوب ترین ہستی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی واپس اپنے پاس لے گئے تو پھر کس نے اس دنیا میں رہنا ہے اور تمہاری روزہ رسول پاک پر کی جانے والی رمضان المبارک کی خدمات کی یقینا آقائے نامدار کے ہاں شرف قبولیت ہو چکی ہے جو انہوں نے ربیع الاول کی پہلی تاریخ کو تمہیں رفیق اکبر کے دربار میں پہنچا دیا۔ یہ چند سطور لکھنے سے پہلے میں کتنی دیر تک تمہارے بھجوائے گئے واٹس ایپ میسج سنتا رہا اور اپنے جوابات سنتا رہا۔ بہت زیادہ کرب کے ساتھ ایک موقع پر میری آنکھیں بھیگ گئیں اور ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے جب میں نے ایک واٹس ایپ میسج میں تمہیں ڈانٹ پلائی اور جواب میں تم نے ہنستے ہوئے مجھے وائس میسج کیا۔ میاں صاحب تسی ٹھیک کہندے او، میں آ رہا تہاڈے کول، دسو کی کھانا پسند کرو گے۔ پھر میرا جواب تھا میں نے کھانا کھایا ہوا ہے تم کچھ نہ لے کر آنا، آج میں نے تمہاری طبیعت صاف کرنی ہے تم بس جلدی پہنچے تو تمہارا ہنستے ہوئے جواب آتا ہے، اچھا میں تہانوں ٹھنڈا کرن واسطے آئس کریم لے کے آ رہیاں۔
اچھا یار فراز اللہ حافظ، آنکھوں سے تم اوجھل تو ہو گئے مگر آج کے بعد میری ہر فجر کی سنتوں اور فرض کے درمیان اپنے والدین سمیت تمام فوت شدگان کے لیے کی جانے والی دعاؤں کا حصہ بن چکے ہو۔ نظام قدرت نے تمہیں بہت سے دوستوں اور اپنے عزیز و اقارب انکھوں سے اوجھل کر دیا مگر تم مجھ سمیت بہت سے دوستوں کے دلوں اور دعاؤں میں اس وقت تک زندہ رہو گے جب تک ہماری روحوں کا ہمارے اجسام سے تعلق قائم ہے۔ اللہ تبارک و تعالی تمہاری قبر روشن فرمائے اور تمہارے بچوں کو اتنی ترقی دے کہ تمہاری آخرت کے لیے فخر کا باعث بنیں۔
مرزا غالب نے اپنے لے پالک بیٹے زین العابدین کی 18 سال کی عمر میں وفات کے موقع پر کیا خوب کہا تھا۔۔
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے،،، کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور۔۔۔

شیئر کریں

:مزید خبریں