اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا ہے کہ رانا ثنا اللہ کو علم ہونے سے پہلے ہی نئے صوبوں کے قیام سے متعلق آئینی ترمیم سامنے آسکتی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے سوال اٹھایا کہ رانا ثنا اللہ بتائیں کیا 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم بھی کابینہ میں تفصیلی بحث کے بعد ہی سامنے آئی تھیں؟
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اگر اس معاملے پر تحفظات ہیں تو اسے وہاں جا کر احتجاج کرنا چاہیے جہاں سے یہ معاملہ شروع ہوا ہے۔ مصطفیٰ کمال کے مطابق جو لوگ یہ معاملہ آگے بڑھا رہے ہیں، وہ اسے عملی شکل دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ مقتدرہ کی جانب سے حکومت کے ساتھ نئے صوبوں کے معاملے پر اب تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ موضوع کابینہ یا پارلیمنٹ میں زیر بحث آیا ہے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جو وفاقی وزرا نئے صوبوں کے قیام کی بات کررہے ہیں، انہیں چاہیے کہ اس حوالے سے کوئی واضح اور تحریری فارمولا پیش کریں۔ صرف بیانات یا پوڈکاسٹ کے ذریعے نئے صوبے قائم نہیں کیے جاسکتے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے فی الحال کوئی باقاعدہ منصوبہ موجود نہیں۔ کوئی 12 صوبوں، کوئی 20 اور کوئی 32 صوبوں کی بات کررہا ہے، لیکن محض خواہش یا تصور کی بنیاد پر ایسا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق مصطفیٰ کمال کا مؤقف بنیادی طور پر کراچی تک محدود ہے جبکہ ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی وسیع عوامی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ ہزارہ کے علاوہ کسی دوسرے علاقے میں عوامی سطح پر اس نوعیت کی مؤثر تحریک نظر نہیں آتی۔







