خارجہ پالیسی کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی، غداری سرٹیفیکیٹس، سیاسی تقسیم سے قوم متحد نہ ہوسکی

ملتان(قوم ڈیجیٹل رپورٹ)سینئرصحافی وچیف ایڈیٹرروزنامہ’’ قوم‘‘ میاں غفارنے ’’قوم ڈیجیٹل ‘‘ کے پوڈکاسٹ میں میزبان فضہ حسین سے گفتگو کرتے ہوئے تقسیم ہنداورقیام پاکستان کے مختلف واقعات پرروشنی ڈالی اورکہاکہ ہندوستان ایک متحد اور وسیع ملک تھا جس کی تاریخ بہت قدیم تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے مکتبِ فکر کے مطابق ہندوستان ایک حقیقت تھاجبکہ پاکستان ایک تجربہ تھااور ہر تجربہ کامیاب بھی ہو سکتا ہے اور ناکام بھی۔اگر ہم 1947ء کی صورتحال پر غور کریں تو اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت نہیں تھی بلکہ یونینسٹ پارٹی کی حکومت تھی اور سکندر حیات خان وزیراعلیٰ تھے۔ مسلم لیگ کی تحریک نے سب سے زیادہ زور بنگال میں دکھایا جبکہ سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں قرارداد کی توثیق کی۔قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد ملکی نظام پر پنجاب کا غلبہ بڑھتا گیا۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی بعض اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے ایشیا کی دعوت کو چھوڑ کر امریکا کا دورہ کیاجسے بعض حلقے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خارجہ پالیسی کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی گئی اور اس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔اگر ہم 1947ء کے حالات کو نئی نسل کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں جاپان سے بھی سبق سیکھنا چاہیے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹمی حملوں کی یادگاریں آج بھی محفوظ رکھی گئی ہیں تاکہ آنے والی نسلیں دیکھیں، تاریخ کو سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔ یہی کام ہمیں بھی اپنی تاریخ کے ساتھ کرنا چاہیے۔ہماری نئی نسل نے وہ حالات نہیں دیکھے اور نہ ہی وہ واقعات اپنے بزرگوں سے اسی طرح سنے ہیں جیسے ہماری نسل نے سنے۔ میرے ایک بزرگ جنہیں اللہ تعالیٰ غریقِ رحمت فرمائے، لاہور ریلوے سٹیشن کے سامنے موجود علاقے سے گزرتے ہوئے اکثر کہتے تھے کہ اس جگہ انہوں نے 1947ء میں لاشوں کے ڈھیر دیکھے تھے۔ ان کے مطابق لاشوں کو گدھا گاڑیوں پر لایا جاتا اور دریائے راوی کے کنارے اجتماعی قبروں میں دفن کیا جاتا تھا۔ نہ مناسب کفن ہوتا تھا اور نہ تدفین کے دیگر انتظامات۔ہم نے بھی اپنے والدین اور بزرگوں سے تقسیمِ ہند کے دوران ہونے والی قتل و غارت کے واقعات سنے۔ ان واقعات کو سنتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے اور بعض اوقات بچے خوف سے رو پڑتے تھے۔زیادتی کاشکارساڑھے 16ہزارمسلمان لڑکیوں نے سکھوں کے بچوں کوجنم دیا۔ یہ ہماری تاریخ کا وہ باب ہے جسے نئی نسل تک منتقل کرنا ضروری ہے۔لاہور کا مینارِ پاکستان بھی میرے لیے محض ایک عمارت نہیں بلکہ تاریخ کا ایک زندہ باب ہے۔ اس کے اطراف میں کبھی گھنے درخت ہوا کرتے تھے۔ بزرگ ان درختوں کے نیچے بیٹھ کر اپنے تجربات اور تاریخی واقعات سنایا کرتے تھے۔ وہاں مختلف عمر کے لوگ جمع ہوتے، کوئی ہیر سناتا، کوئی واقعہ بیان کرتا اور کوئی ماضی کے حالات پر گفتگو کرتا۔شاہی مسجد، شاہی قلعے اور دیگر تاریخی مقامات کے اطراف بھی ایسے مقامات تھے جہاں بزرگ بیٹھا کرتے تھے۔ ان محفلوں میں غیر رسمی انداز میں ایسی تاریخ بیان ہوتی تھی جو شاید کسی یونیورسٹی کی کتاب میں بھی نہ ملے۔ نئی نسل کو یہ تاریخی روایت دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔۔1947ء کے حالات اور انسانی المیے کی منظرکشی پنجابی شاعر مبارک علی منظر نے بھی اپنے اشعار میں کی ہے۔ ان کے اشعار تقسیم کے دوران ہونے والی خونریزی، عزتوں کے پامال ہونے اور انسانی المیے کی ایک دردناک تصویر پیش کرتے ہیں۔تقسیمِ ہند دنیا کی سب سے بڑی ہجرتوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے ساتھ بڑے پیمانے پر خونریزی بھی ہوئی۔ پنجاب اس المیے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل تھا۔ قتل و غارت، لوٹ مار اور ہجرت نے لاکھوں خاندانوں کی زندگیاں بدل دیں۔گجرات میں ٹرینوں پر حملے ہوئے، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں ہندو اور سکھ تاجروں کے قافلے متاثر ہوئےجبکہ دوسری جانب ہندوستان جانے والے مسلمان مہاجرین بھی حملوں کا نشانہ بنے۔ کئی علاقوں میں ایک طرف سے ہونے والے مظالم کے جواب میں دوسری طرف بھی خونریزی ہوئی۔میرے ایک بزرگ واقف کارجو تقریباً 93، 94 برس کی عمر میں وفات پا گئے، نے بھی اس دور کے واقعات سنائے تھے۔ ان کے مطابق رحیم یار خان کے علاقے سے ہندوستان جانے والے ہندو قافلے بھی راستے میں حملوں کا نشانہ بنے۔ تقسیم کے اس سانحے میں دونوں جانب عام شہریوں نے ناقابلِ بیان مصائب برداشت کیے۔ہماری والدہ بتایا کرتی تھیں کہ 1940ء سے 1945ء تک عام لوگوں کے درمیان اس نوعیت کی نفرت موجود نہیں تھی۔ مسلمان، ہندو اور سکھ ایک ہی محلوں میں رہتے تھے۔ ایک گھر مسلمان کا، دوسرا سکھ کا اور تیسرا ہندو کا ہوتا تھا۔ صدیوں سے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے تھےلیکن تقسیم کے وقت حالات اچانک اس قدر بدل گئے کہ باہمی اعتماد نفرت اور تشدد میں تبدیل ہوگیا۔متحدہ ہندوستان میں مسلمان ہمیشہ اکثریت میں نہیں رہے لیکن مختلف ادوار میں مسلمانوں کی حکومت ضرور رہی۔ مغلوں سے پہلے بھی کئی مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں اور بعد میں مغلیہ سلطنت نے ایک طویل عرصے تک حکومت کی۔ سکھ اقتدار کا بڑا حصہ پنجاب تک محدود رہاجبکہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مختلف حکمران موجود رہے۔تقسیم کے حوالے سے یہ نظریہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ برطانوی حکومت جاتے ہوئے ایک متحد اور بہت بڑے ملک کو اپنے بعد اسی شکل میں نہیں چھوڑنا چاہتی تھی، اسی لیے تقسیم کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم باؤنڈری کمیشن کے فیصلوں نے بھی مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ گرداسپور اور پٹھان کوٹ کے علاقوں کی تقسیم نے کشمیر تک پاکستان کی زمینی رسائی کے معاملے کو بھی متاثر کیا۔ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والے بہت سے افراد اور ریاستوں کو بعد میں غدار کیوں قرار دیا گیا؟ بلوچستان کے سرداروں نے پاکستان کے حق میں فیصلے کیے، ریاست بہاولپور نے پاکستان کا ساتھ دیا، والیِ سوات سمیت مختلف ریاستی حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ کئی ایسے افراد بھی غدار قرار پائے جو قیامِ پاکستان کے وقت اس کے حامی تھے۔جی ایم سید بھی قائداعظم کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، لیکن بعد کے سیاسی حالات میں انہیں غدار قرار دیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس خطے میں غداری کے سرٹیفکیٹ ایسے تقسیم کیے گئے جیسے گلی میں بچوں کو ٹافیاں بانٹی جاتی ہیں۔غداری کے یہ الزامات اور مسلسل سیاسی تقسیم اس بات کی ایک وجہ بنے کہ ہم ایک مضبوط اور متحد قوم نہ بن سکے۔ تاریخ کا مقصد صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں بلکہ اس سے سبق حاصل کرنا بھی ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کے تلخ واقعات کو چھپانے کے بجائے دیانت داری سے نئی نسل کے سامنے رکھنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق حاصل کر سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں