مالی بحران، ناکارہ بائیکس اور وسائل کمی، پنجاب میں ڈولفن فورس ختم کرنےکافیصلہ

ملتان(نمائندہ خصوصی)ملتان سمیت پنجاب بھر میں ڈولفن فورس کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق محکمہ پولیس نے ڈولفن فورس کو مرحلہ وار ختم کرکے اس کے اہلکاروں اور وسائل کو ضلعی پولیس کے دیگر شعبوں میں ضم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں شدید مالی بحران، ہیوی بائیکس اور گاڑیوں کی ناقص حالت، بڑھتے ہوئے اخراجات اور اہلکاروں کو درپیش صحتی مسائل شامل بتائے جا رہے ہیں۔ اگر اس فیصلے کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی تو پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح ملتان میں بھی ڈولفن فورس کی موجودہ ساخت ختم ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق صوبائی سطح پر ڈولفن فورس اور پولیس رسپانس یونٹ (PRU) اس وقت شدید انتظامی اور آپریشنل مشکلات سے دوچار ہیں۔ لاہور میں ڈولفن فورس کے لیے مختص 600 ہیوی بائیکس میں سے تقریباً 400 بروقت مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ناکارہ ہو چکی ہیں، جبکہ صرف 200 بائیکس ہی فعال ہیں۔ ان پر تعینات اہلکار بھی مؤثر گشت کے بجائے مختلف مقامات پر فکسڈ ڈیوٹی انجام دینے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح پولیس رسپانس یونٹ کی 106 گاڑیوں میں سے 42 گاڑیاں بھی مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں، جس سے ہنگامی رسپانس سسٹم متاثر ہو رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈولفن فورس کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ صرف لاہور میں پیٹرول کی مد میں پانچ کروڑ روپے سے زائد کے واجبات زیر التوا ہیں، جس کے باعث روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پٹرولنگ محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ فنڈز کی کمی کے باعث نہ صرف گاڑیوں اور بائیکس کی بروقت مرمت ممکن نہیں رہی بلکہ آپریشنل استعداد بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ ملتان میں بھی ڈولفن فورس کو وسائل کی کمی، بائیکس کی مرمت، سپیئر پارٹس کی عدم دستیابی اور محدود پٹرول بجٹ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد بائیکس مختلف ورکشاپس میں مرمت کی منتظر ہیںجبکہ فعال اہلکار محدود وسائل کے ساتھ شہر کے مختلف علاقوں میں ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔ اگر صوبائی سطح پر ڈولفن فورس کو ختم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد ہوتا ہے تو ملتان میں تعینات اہلکاروں کو ضلعی پولیس، گشت برانچ یا دیگر آپریشنل یونٹس میں ایڈجسٹ کیے جانے کا امکان ہے تاکہ امن و امان کی ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں۔ دوسری جانب مسلسل ہیوی بائیکس پر طویل دورانیے کی پٹرولنگ کے باعث ڈولفن فورس کے متعدد اہلکار کمر، گردن اور ریڑھ کی ہڈی کی تکالیف سمیت مختلف جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان مسائل کے باعث اہلکاروں کی بڑی تعداد طبی معائنے اور علاج کی محتاج ہے، جس سے فورس کی مجموعی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ محکمہ پولیس ڈولفن فورس کے متبادل نظام پر بھی غور کر رہا ہے، جس کے تحت وسائل کو ازسرنو منظم کرکے ضلعی پولیس کی گشت، ریسپانس اور کرائم کنٹرول کی صلاحیت کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم اس حوالے سے حتمی نوٹیفکیشن اور باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں