جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج

تازہ ترین

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

مکہ مکرمہ: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے خطے میں مشترکہ سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے دونوں رہنماؤں کا استقبال کیا۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت میں اضافہ، باہمی سیکیورٹی تعاون کو وسعت دینا اور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے میں دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں روابط مزید مضبوط بنانے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کسی ایک ملک کے خلاف ہونے والی مسلح جارحیت کو مشترکہ خطرہ سمجھا جائے گا۔ اس شق کو اجتماعی دفاع اور deterrence کے اصول سے جوڑا جا رہا ہے، جس کا مقصد ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

اس موقع پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی قیادت نے تاریخی تعلقات، باہمی اعتماد، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
تجزیوں کے مطابق تینوں ممالک کی مختلف دفاعی صلاحیتیں اس شراکت داری کو اہم بناتی ہیں۔ پاکستان کے پاس وسیع فوجی تجربہ اور دفاعی صلاحیت ہے، سعودی عرب خطے میں اہم جغرافیائی اور معاشی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ ترکیہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور مضبوط دفاعی صنعت کا حامل ہے۔
معاہدے میں انٹیلی جنس تعاون، عسکری رابطوں، دفاعی صلاحیتوں اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کو مزید فروغ دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اس شراکت داری کو خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف جارحانہ اتحاد نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کی شراکت داری ہے، جس کا مقصد اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور ممکنہ تنازعات کی روک تھام ہے۔ معاہدے کو “مسلم نیٹو” قرار دینے سے بھی گریز کیا گیا ہے اور اسے کسی نئی جوہری ضمانت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں