لاہور کو آپریٹو سوسائٹی: کرپشن 15 ارب پار، 3 ارب کی 391 پلاٹوں کی فائلیں غائب

لاہور (روزنامہ قوم ریسرچ سیل) پنجاب گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی رائیونڈ روڈ لاہور میں نام نہاد صدر ندیم اکرام ورک اور ان کے ساتھیوں کی مجموعی کرپشن اور لوٹ مار کا حجم 15 ارب روپے سے کراس کر گیا۔ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کی مکمل سرپرستی، آشیرباد اور ملی بھگت سے اس بدنام گینگ نے جس کا سربراہ ندیم اکرام ورک تھا ابھی تک محکمے کو ریکارڈ ہی نہیں دیا اور بتایا گیا ہے کہ 391 پلاٹوں کی فائلز ہی سرے سے غائب ہیں جن کی مالیت تقریباً تین ارب روپے سے زائد بنتی ہے اور محکمہ مکمل طور پر ان کی سہولت کاری کر رہا ہے جبکہ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بنائی گئی نگران کمیٹی جس کے سربراہ شجاع فاروقہ ہیں، ابھی تک مکمل ریکارڈ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور بادی النظر میں یہ کمیٹی اربوں روپے کے میگا فراڈ پر کارروائی کی بجائے مٹی ڈالنے کے لیے قائم کی گئی ہے جسے متاثرین نے “مٹی پاؤ کمیٹی” کا نام دے دیا ہے جبکہ سیکرٹری کوآپریٹو نوید حیدر شیرازی نے مبینہ طور پر ندیم اکرام ورک اور اس کے گینگ کی سہولت کاری کرتے ہوئے انہیں 30 دن کی مہلت دے دی کہ وہ 30 دن کے اندر اندر ریکارڈ جمع کروائیں اور سیکرٹری کوآپریٹو کا فیصلہ سننے کے بعد ندیم کرام ورک اور ان کے ساتھی ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے جبکہ تازہ ترین صورتحال کے مطابق اشک شوئی کے لیے ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے جس کی پیروی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی ندیم اکرام ورک کا نام ای سی ایل میں ڈالنے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا گیا ہے۔ اس سوسائٹی کے تین ہزار سے زائد ممبران کا فرانزک آڈٹ کروانے کا مطالبہ بھی ابھی تک کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے زیر التوا ہے جبکہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا ہے کہ ڈھائی کروڑ مالیت کی 373 پلاٹوں کی فائلیں غیر درج شدہ حالت میں موجود ہیں اور 388 فائلیں ایسی ہیں جن پر ڈبل الاٹمنٹ کرکے کم سے کم چار ارب روپے کا گھپلا کیا گیا ہے۔ یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ 1997 سے لے کر 2023 تک کا 27 سال کا جنرل باڈی کا تمام تر ریکارڈ غائب کر دیا گیا ہے اور عبوری کمیٹی کو نہ تو اکاؤنٹ لیجر دیے گئے ہیں نہ اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ دی گئی ہیں اور حیران کن طور پر خرید و فروخت کے تمام تر رجسٹرڈ بھی غائب کر دیے گئے ہیں۔ اب تک 261 فائلوں کے ڈبل مالکان سامنے آ چکے ہیں بلکہ پلاٹوں بعض کے تین تین مالکان بھی منظر عام پر آئے ہیں اور 136 فائلیں نامکمل اور نامعلوم ہیں جن کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر آڈٹ کمیٹی کو فراہم نہیں کیا جا رہا. ندیم اکرام ورک کی سربراہی میں کام کرنے والی جنرل باڈی نے 322 پلاٹ ایسے بھی فروخت کر دیے ہیں جو قبرستان اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے ایل ڈی اے کی طرف سے وقف تھے اور 451 مارگیج شدہ شدہ پلاٹوں کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق ابھی تک یہ گھپلا اور کرپشن جو کہ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے ندیم اکرام ورک اور ان کے ساتھیوں نے کیا اس کا حجم 15 ارب روپے سے کراس کر چکا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں