ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال ملتان میں میڈیکل گیس سلنڈرز اور انسپکشن میں کروڑوں کی بے ضابطگیوں کا الزام سامنے آیا ہے۔نشتر ہسپتال میں میڈیکل گیس سلنڈرز کی خریداری، وصولی، انسپکشن اور سرکاری سامان کے استعمال میں مبینہ بے ضابطگیوں اور کرپشن کے خلاف محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر حکومت پنجاب کے سیکرٹری کو شفاف تحقیقات کی درخواست دی گئی ہے ذرائع کے مطابق درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بائیو میڈیکل انجینئر راؤ احسان کی زیر نگرانی آکسیجن اور گیس پائپ لائنز کی انسپکشن اور فراہمی کے عمل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ سلنڈرز کی وصولی کے دوران مناسب طریقے سے چیک نہیں کیا جاتا جس کے نتیجے میں اکثر اوقات کم سلنڈر وصول ہوتے ہیں اور ریکارڈ میں کم تعداد ظاہر کی جاتی ہے۔ الزام ہے کہ اس سلسلے میں سٹور کیپر جاوید بھی ملوث ہے مزید کہا گیا کہ سرکاری معیاری سلنڈرز کو تبدیل کر کے غیر معیاری اور کمپنی کے گھٹیا سلنڈر ہسپتال میں لگائے جا رہے ہیں۔ راؤ احسان پر الزام ہے کہ وہ کمپنی سے مالی فائدہ لے کر سرکاری سلنڈرز کی فلنگ کراتے ہیں درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ گیس پائپ لائنز کی سروس اور انسپکشن کے دوران غیر ضروری یا ٹرسٹ کی بنیاد پر ریگولیٹرز، آؤٹ لیٹ پوائنٹس اور سولڈرنگ ویلڈنگ کا کام کرو کر سرکاری سامان کو نجی مفاد کے لیے باہر فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اس تمام عمل میں عبدالرحمٰن نامی شخص بطور معاون فرنٹ مین کردار ادا کر رہا ہے درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ سطح کمیٹی انکوائری کے ذریعے میڈیکل گیس سلنڈرز کا وزن، تعداد اور ریکارڈ کو چیک کرے سرکاری سلنڈرز کی شناخت، نمبرنگ اور کمپنی سے واپسی کا ریکارڈ چیک کیا جائے گیس پائپ لائن انسپکشن کے تمام ورک آرڈرز، بلز، استعمال شدہ سامان اور اسٹور ریکارڈ کا آڈٹ کروایا جائے تاکہ تمام تر معاملات کھل کر سامنے آ سکیں درخواست میں راؤ احسان بائیو میڈیکل انجینئر کے خلاف قواعد کے مطابق سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ درخواست کی کاپی سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، کمشنر ملتان، وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر ہسپتال ملتان اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان کو بھی ارسال کی گئی ہے۔







