ایچ ای سی کی پابندی نظرانداز، سرکاری یونیورسٹی میں متنازع داخلے، طلبہ پریشان

ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کی جانب سے ملک بھر کی متعدد جامعات کے کمپیوٹنگ پروگرامز کے معیار کا جائزہ لینے کے بعد بعض اداروں کے مخصوص پروگراموں میں نئے داخلوں پر پابندی عائد کیے جانے کے معاملے میں ملتان کی بعض سرکاری یونیورسٹی بھی شامل رہی، تاہم ذرائع کے مطابق متعلقہ جامعہ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سرکاری یونیورسٹی نے اپنے داخلہ اشتہارات میں ان پروگراموں کے لیے درخواستیں طلب کرنا جاری رکھیں، البتہ اشتہار میں ایک نوٹ شامل کیا گیا کہ ان پروگراموں میں داخلہ ایچ ای سی کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی پروگرام کے لیے ریگولیٹری منظوری موجود نہ ہو یا داخلوں پر پابندی نافذ ہو تو ایسے پروگراموں کی تشہیر کرکے طلبہ سے درخواستیں اور فیسیں وصول کرنا انتظامی طور پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے مطابق اکثر طلبہ اور والدین اشتہارات میں درج باریک نوٹس یا شرائط کو مکمل طور پر نہیں پڑھتے اور صرف نمایاں طور پر شائع پروگراموں کو دیکھ کر داخلے کے لیے درخواست دے دیتے ہیں۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق اس طرزِ عمل سے طلبہ کے مستقبل اور مالی مفادات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ سوشل اور تعلیمی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ایچ ای سی کی جانب سے کسی پروگرام پر پابندی یا منظوری سے متعلق واضح ہدایات موجود تھیں تو پھر انہی پروگراموں کی تشہیر اور درخواستوں کی وصولی کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا تھی؟ تعلیمی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ آیا متعلقہ پروگراموں میں داخلے لینا ایچ ای سی کی پالیسی کے مطابق تھا یا نہیں۔ زیرِ گردش داخلہ اشتہارات کے مطابق متعلقہ سرکاری یونیورسٹی نے کمپیوٹر سائنس اور اس سے متعلقہ پروگراموں میں داخلوں کا اعلان کیا، جبکہ ایک نوٹ کے ذریعے انہیں ایچ ای سی کی منظوری سے مشروط قرار دیا گیا۔ تعلیمی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایسی شرط کو صرف چھوٹے نوٹ کی صورت میں درج کرنا طلبہ اور والدین کے لیے مکمل شفافیت فراہم نہیں کرتا، اس لیے اگر منظوری زیرِ التوا ہو تو اس حقیقت کو نمایاں انداز میں واضح کیا جانا چاہیے۔ تعلیمی ماہرین اور والدین کا کہنا ہے کہ اگر ایک سرکاری یونیورسٹی کی جانب سے بھی اس نوعیت کے اشتہارات اور مشروط داخلوں کی صورتحال سامنے آ سکتی ہے تو یہ معاملہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسی پرائیویٹ جامعات کا کیا حال ہوگا جو ریگولیٹری نگرانی نسبتاً کم ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر منظور شدہ یا زیرِ التوا پروگراموں میں داخلے دے کر طلبہ اور والدین کو گمراہ کر سکتی ہیں۔ ماہرین نے مطالبہ کیا کہ ایچ ای سی سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں ایسے تمام پروگراموں کا جامع آڈٹ کرے، عوام کو واضح فہرست جاری کرے کہ کون سے پروگرام داخلوں کے لیے منظور شدہ ہیں، اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل اور مالی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں