ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے انجینئرنگ ونگ میں انتظامی غفلت کی مثال سامنے آگئی ہے، جہاں متعدد تحریری مراسلات کے ذریعے زرعی فیکلٹی کے سٹاف ہاؤس نمبر C-07 کو فوری طور پر خالی کرانے کی سفارش کی، مگر انتظامیہ کی سست روی اور عدم توجہی کے باعث یہ معاملہ کئی روز تک التوا کا شکار رہا۔ دستاویزات کے مطابق یونیورسٹی انجینئر نے رجسٹرار کو بھیجے گئے باضابطہ خط میں واضح کیا کہ سال 2021-22 میں مرمت کے باوجود حالیہ معائنے کے دوران عمارت کی تمام دیواروں میں خطرناک ساختی دراڑیں پائی گئیں۔ مینٹیننس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس رہائش گاہ کو “انتہائی حساس” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ حالت میں اس عمارت میں رہائش انسانی جان اور املاک کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے، لہٰذا کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مکان کو فوری طور پر خالی کرایا جائے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب متاثرہ رہائشی نے بھی رجسٹرار کو تحریری درخواست دے کر آگاہ کیا کہ مکان کی دیواریں بری طرح متاثر ہیں، چھت اور دیگر حصے بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں اور کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس سے قبل بھی متعلقہ حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا جا چکا تھا، تاہم مسئلہ حل نہ کیا گیا۔ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ وائس چانسلر تک بھی پہنچا، جہاں عارضی طور پر متبادل رہائش فراہم کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ بعد ازاں انجینئرنگ ونگ کو باضابطہ کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمارت واقعی اتنی خطرناک تھی کہ انجینئرنگ حکام نے اسے فوری خالی کرانے کی سفارش کی، تو پھر بروقت عملی اقدامات کیوں نہ کیے گئے؟ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ناخوشگوار حادثے کی صورت میں قیمتی انسانی جان کا نقصان ہوتا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی؟ کیا انتظامیہ صرف فائلوں میں نوٹنگ اور مراسلات تک محدود رہی، یا خطرے سے دوچار رہائشیوں کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات بھی کیے گئے؟ یہ معاملہ بی زیڈ یو انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا رہا ہے۔ ایک طرف انجینئرنگ حکام عمارت کو خطرناک قرار دے رہے تھے، دوسری طرف فوری حفاظتی اقدامات میں تاخیر نظر آتی ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے معاملے میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔







