احمد پور شرقیہ: پولیس و عدالتی اہلکار، ظالم سودخوروں پر مشتمل گروہ عوام کا خون چوسنے لگا

ملتان (قوم ریسرچ سیل) بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کے شکاری محلہ کے رہنے والے والے ایک تاجر ذیشان سے مقامی پولیس ملازمین عدالتی اہلکار اور شہر بھر کے بدنام اور ظالم سود خوروں پرمشتمل ایک گروہ نے 28 لاکھ روپے کے قرض کے عوض دو سال کے عرصے میں 85 لاکھ روپیہ وصول کرنے کے بعد گھر میں موجود چار بیٹیوں کا جہیز کا سامان اٹھا لیا اور الیکٹرانکس کی تمام چیزیں بھی لوڈر گاڑیوں میں ڈال کر لے جائے۔ گھر کے دروازے توڑ دیئے گئے، الماریاں اکھاڑ دی گئی ۔سود خوروں کو پولیس اور عدلیہ کے نچلے درجے کے اہلکاروں کی سرپرستی حاصل ہے۔۔ ان سود خوروں میں زبیر قریشی اور ابراہیم قریشی سارے فہرست ہے اور بعض مقامی صحافیوں کی بھی ان سود خوروں کو مکمل سرپرستی حاصل ہے جو اپنا حصہ وصول کر کے ان سود خوروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ سود خور کے اس گروہ نے شہر بھر میں اپنے ٹاؤٹ چھوڑے ہوئے ہیں جو مجبور لوگوں اور ایسی عورتوں کو جنہوں نے بیٹیوں کی شادیاں کرنی ہوتی ہیں اسان اقساط میں ادائیگی کا لالچ دے کر ان سود خوروں کے پاس لے جاتے ہیں جو رقم دے کر چار سے چھ خالی چیکوں پر دستخط کروا لیتے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ذیشان کے کاروباری نقصان کے باعث اسی قسم کے ٹاوٹوں نے اس سے رابطہ کیا اور زبیر قریشی و ابراہیم قریشی نامی بدنام ترین سود خوروں سے ملوا کر 25 لاکھ قرض کی مد میں دلوا کر اس سے چھ چیک لکھوا لئے۔ ذیشان نے پھر تین لاکھ روپیہ مزید لیا اور اس طرح کل 28 لاکھ روپے کے عوض دو سال میں ذیشان ان سود خوروں کو 85 لاکھ روپیہ ادا کر چکا ہے اور اب بھی اس کے ذمے یہ سود خور 70 لاکھ روپے نکال کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل جب یہ فیملی اپنے رشتہ داروں کے پاس بہاولپور گئی ہوئی تھی اور گھر کو تالا لگا ہوا تھا تو شکاری محلہ احمد پور شرقیہ میں واقعہ اس گھر کے تالے توڑ کر سود خوروں کے پالتو غنڈے گھر میں داخل ہوئے اور گھر میں لگے ہوئے تین اے سی اٹھا لیے، فرج اٹھا لیا اور کئی سال کے عرصے میں بہنوں کے لیے جمع کیا گیا جہیز کا سارا سامان اٹھا لیا گیا حتی کہ باورچی خانے میں واقعہ برتن بھی اٹھا لیے اور گھر میں دروازوں کو توڑ کر گھر کو کباڑ خانے میں تبدیل کر دیا۔ ذیشان کی والدہ جب مقامی ڈی ایس پی چوہدری جاوید سے اس کی شکایت لے کر گئی اور اپنا سامان کی برآمدگی کے لیے درخواست کی چوہدری جاوید نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ سود کا نہیں بلکہ لین دین کا معاملہ ہے اور اپ نے ان کے پیسے دینے ہیں اس لیے پنچایت میں بات ہو گی، ایسے مقدمہ درج نہیں ہو گا حالانکہ کئی عینی شاہدین نے پولیس کے روبرو تصدیق کی کہ چھ افراد پر مشتمل غنڈوں نے گھر سے سامان اٹھایا ہے حتی کہ ایک شخص نے ویڈیو بھی مقامی پولیس کو فراہم کی جسے پولیس نے اس کے موبائل سے اپنے موبائل میں ٹرانسفر کر کے اس کے موبائل سے ویڈیو کو ڈیلیٹ کروا دیا۔ احمد پور شرقیہ پولیس کی طرف سے اس لوٹ مار کی ایف آئی ار درج کرنے سے انکار کے بعد مظلوم خاندان ڈی پی او بہاولپور کے روبرو پیش ہوا تو تمام حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد ڈی پی او بہاولپور نے نہ صرف احمد پور شرقیہ پولیس سے وضاحت طلب کی بلکہ فوری طور پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ ڈی پی او بہاولپور نے بتایا کہ انہوں نے تو سود خوروں کے خلاف سخت کاروائی کا حکم دے رکھا ہے کیونکہ سود خوری اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے اور سود خوری کے خلاف جنگ کرنے والا اللہ اور اس کے رسول کا منظور نظر ہو جاتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں