نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر بیرسٹر گوہر کی تنقید، حکمران جماعتوں پر سخت الزامات

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ موجودہ حکمران جماعتیں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، نہ نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کریں گی اور نہ ہی نئے انتظامی یونٹس بنانے کی اجازت دیں گی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کو آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے چیک اپ مکمل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بھی بعد میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، جبکہ ان کے مطابق محسن نقوی یا بلاول بھٹو زرداری سے اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، عوام کا اداروں اور نظام پر اعتماد کمزور پڑ چکا ہے، جبکہ عدلیہ بھی شدید تنقید کی زد میں ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک بھر میں مزید ججز تعینات کیے گئے، لیکن اس کے باوجود انصاف کی فراہمی کا نظام بہتر نہیں ہو سکا اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے، تاہم ان کے بقول اس سے تحریک انصاف کی عوامی حمایت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکمران اتحاد کے پاس آئینی ترامیم کے لیے عوامی مینڈیٹ موجود نہیں، اس لیے قومی اتفاق رائے کے بغیر ایسے فیصلے مناسب نہیں ہوں گے۔
اپنی گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول انتخابات میں پی ٹی آئی کی نشستیں چھینی گئیں، اور انہوں نے اس معاملے پر پیپلز پارٹی کو مناظرے کا چیلنج بھی دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں