گزشتہ مالی سال بجلی کے بلوں پر عوام سے 476 ارب روپے ٹیکس وصول، ایف بی آر کا انکشاف-گزشتہ مالی سال بجلی کے بلوں پر عوام سے 476 ارب روپے ٹیکس وصول، ایف بی آر کا انکشاف-مومنہ اقبال اور طوبیٰ انور کے بعد عروبہ مرزا بھی سامنے آگئیں، ثاقب چدھڑ پر نئے الزامات-مومنہ اقبال اور طوبیٰ انور کے بعد عروبہ مرزا بھی سامنے آگئیں، ثاقب چدھڑ پر نئے الزامات-اٹارنی جنرل منصور اعوان کے گھر پولیس چھاپہ، ایس پی کینٹ عہدے سے ہٹا دیا گیا، انکوائری شروع-اٹارنی جنرل منصور اعوان کے گھر پولیس چھاپہ، ایس پی کینٹ عہدے سے ہٹا دیا گیا، انکوائری شروع-جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی، جبری تبادلوں سے نظام متاثر، فنڈز کی قلت کا سامنا-جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی، جبری تبادلوں سے نظام متاثر، فنڈز کی قلت کا سامنا-جلالپورپیروالا: دریائے چناب میں نچلے درجے کا سیلاب، مزید علاقے زیرآب-جلالپورپیروالا: دریائے چناب میں نچلے درجے کا سیلاب، مزید علاقے زیرآب

تازہ ترین

جلالپورپیروالا: دریائے چناب میں نچلے درجے کا سیلاب، مزید علاقے زیرآب

جلال پورپیروالہ(نامہ نگار)دریائے چناب میں نچلے درجے کا سیلاب، مزید کئی علاقے متاثر، سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں زیرآب آگئیں،سیلاب میں سے گذرنے والی گاڑیاں، رکشے اور موٹرسائیکل الٹ گئے،تاہم کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہوا تفصیل کے مطابق دریائے چناب میں نچلے درجے کے سیلاب نے جلال پور کے مغرب میں واقع مواضعات شاہ پور لماں، رپڑی،وچھہ سندیلہ، نڑول،بیٹ کیچ جنوبی، بیٹ مغل کی بستیوں کو متاثر کرنے کے بعد موضع کرموں والی اور موضع شیہنی میانی کے علاقوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔نچلے درجے کے اس سیلاب سے ان مواضعات میں سینکڑوں اراضی پر کھڑی فصلیں زیرآب آگئیں۔ ان فصلوں میں سب سے زیادہ نقصان تل کی فصل کا ہوا ہے جو کہ تیار فصل تھی۔ اس علاقہ کے کاشتکاروں کو دریائے چناب کےڈیڑھ لاکھ کیوسک کے نچلے درجے کےسیلابی ریلے کی تباہ کاریوں کا اندیشہ نہیں تھا۔ 2025 کے سیلاب سے قبل ان مغربی علاقوں میں دریائے چناب پر عوامی اور زمیندارہ حفاظتی بند قائم تھے. جنہیں مقامی زمیندار و کاشتکار ہرسال مضبوط کرتے رہتے تھےاور انتظامیہ بھی ان کے ساتھ تعاون کرتی تھی اور اس وقت دریائے چناب سے دو سے تین لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلہ بآسانی دریا چناب سے باہر نکلے بغیر ہی گذر جاتا تھا لیکن 2025 کے سیلاب نے ان تمام زمیندارہ حفاظتی بندوں کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا اور 2025 کے سیلاب میں بہت زیادہ ریت آنے کے باعث بھی دریا کا پیٹ کم ہوگیا. جس کی وجہ سے اس سال 2026 کے ڈیڑھ لاکھ کیوسک سیلاب نے ان نشیبی علاقوں میں موجود فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا. سیلابی پانی سے گزرنے والی کئی گاڑیاں، رکشے اور موٹر سائیکل الٹ گئے۔ تاہم کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہوا۔ نچلے درجے کا سیلابی اگرچہ سست روی سے چل رہا ہے لیکن بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔ دریائے چناب کے نچلے درجے کے سیلاب میں کمی ہونے کے باعث یہاں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات سیلاب میں کمی ہونے کا امکان ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں