کوٹ ادو: 16 غیرمنظور شدہ ہاؤسنگ سکیمیں بےبقاب، انتظامیہ کا ایکشن نوٹس تک محدود

ملتان ( قوم ریسرچ سیل) حکومت پنجاب کی طرف سے مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کو ضلع کا درجہ دینے کے اعلان کے ساتھ ہی لینڈ مافیا اور فراڈیوں نے کوٹ ادو شہر کے چاروں اطراف میں بلا اجازت رہائشی کالونی بنانا شروع کر دی اور قسطوں پر لوگوں کو مسلسل لوٹا جا رہا ہے مگر انتظامیہ کی طرف سے محض یاد دہانی کا نوٹس جاری کرکے خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ بلدیہ کورٹ ادو کے چیف افسر اور دیگر متعلقہ شعبے کے ذمہ داران کی طرف سے 22 جولائی 2026 کو لیٹر نمبر ایم سی/ کے اے/(جی) 1928 کے تحت جن 16 کالونیوں کو غیر قانونی اور بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی کے باعث منظوری نہیں دی گئی اور ان کے خلاف کاروائی جاری کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ان میں نور شاہ روڈ پر 90 کنال اراضی پر خیابان فیض، شیخ عمر روڈ پر 52 کنال پر مشتمل کینال ویو فیز ون، 99 کنال پر مشتمل کینال ویو فیز ٹو، 69 کنال پر مشتمل رحمان ویلی موضع پیرہاڑ شرقی، 40 کنال پر مشتمل موضع چوہدری کی المبارک ولاز، 88 کنال پر مشتمل سبحان سٹی جو کہ موضع حالہ نے واقعہ ہے۔ 89 کنال پر مشتمل میاں نذیر احمد گارڈن، موضع کوٹلہ، 48 کنال پر مشتمل روشن ٹاؤن، 51 کنال پر مشتمل انڈس ویلی۔ موضع چوہدری، 83 کنال پر مشتمل گلشن میاں نذیر احمد، موضع کوٹلہ۔ 21 کنال پر مشتمل المحکم ٹاؤن، 162 کنال پر مشتمل الرحمن گارڈن ہاؤسنگ سکیم کوٹلہ، 292 کنال پر مشتمل النور سٹی ہاؤسنگ سکیم پیرہار، 274 کنال پر مشتمل گرین ویلی ہاؤسنگ سکیم، 37 کنال پر مشتمل خیابان سکندر بسم اللہ سٹی، 45 کنال پیرہار ٹاون نامی غیر قانونی سوسائٹیاں شامل ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کوٹ ادو اور بلدیہ کوٹ ادو کی طرف سے ایک روٹین کا نوٹس جاری کرکے اپنی فائلوں کا پیٹ تو بھر لیا گیا ہے مگر ان غیر قانونی سوسائٹیوں کے شہر بھر میں اشتہارات لگے ہوئے ہیں ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں کی جا رہی اور عام ادمی تک اس نوٹس کی کوئی اطلاع دیے جانے کا کسی بھی قسم کا کوئی سسٹم موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے کوٹ ادو کے شہری پراپرٹی مافیا کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں