بغداد: عراق کے بااثر شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور اس سے وابستہ مسلح گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ عراق کی سرزمین کو فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں اور ملک کو کسی نئی جنگ کا میدان نہ بنائیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو عراق کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے بچنا چاہیے جو ملک کو مزید خطرات اور عدم استحکام کی طرف لے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ریاستی مسلح گروہوں کو ایسے اقدامات نہیں کرنے چاہییں جن سے خلیجی ممالک کو عراق میں کارروائی کا جواز ملے۔ ان کے مطابق تمام فریقوں کو ایسی سرگرمیوں سے اجتناب کرنا چاہیے جو خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ کریں۔
مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ کسی بھی طاقت کو ایسے منصوبوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کریں۔ انہوں نے عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بعض مسلح عناصر ملک کو ایسی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں جس سے عراق کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے عراقی حکومت پر بھی زور دیا کہ ریاستی رٹ کو مضبوط بنایا جائے اور تمام مسلح سرگرمیوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے تاکہ ملک میں امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
عراقی رہنما نے خبردار کیا کہ ملک کے اندر اور باہر موجود غیر فعال دہشت گرد عناصر فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ اٹھا کر عراق میں بدامنی پیدا کر سکتے ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ عراق اور پورے خطے کو مزید جنگوں کے بجائے امن، مفاہمت اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کو بیرونی مداخلت، غیر ملکی فوجی اڈوں اور طاقت کے استعمال سے پاک ہونا چاہیے۔







