مظفرآباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی جماعت انتخابی دھاندلی کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کو قبول نہیں کرے گی۔
مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جلسے میں عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ 2 اگست کے انتخابات میں تیر کامیاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ تین نسلوں سے عالمی سطح پر کشمیر کاز کو اجاگر کرتی آ رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کا نام لیے بغیر بلاول بھٹو نے کہا کہ بعض جماعتیں ہمیشہ انتخابی دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آتی رہی ہیں اور اب آزاد کشمیر میں بھی یہی طرزِ عمل اپنانا چاہتی ہیں، تاہم پیپلز پارٹی انہیں ایسا نہیں کرنے دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر عوام کے ووٹ سے شکست ہوئی تو اسے تسلیم کریں گے، لیکن مبینہ طور پر دھاندلی کے ذریعے حاصل کیے گئے نتائج قبول نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ چوہدری یاسین کے حلقے میں 30 پولنگ اسٹیشنز پر بے ضابطگیاں ہوئیں اور ان کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ اگر الیکشن کمیشن ان مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث نہیں تو متنازع پولنگ اسٹیشنز پر فوری طور پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔
انہوں نے کشمیر کے عوام سے وعدہ کیا کہ ان کے مطابق عوامی مینڈیٹ کی بحالی کے لیے ہر قانونی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائی جائے گی، جبکہ پیپلز پارٹی کشمیری عوام کے حقوق جمہوری طریقے سے حاصل کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔







