مظفرآباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ میرپور اور کوٹلی میں عوامی مینڈیٹ کو متاثر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد کو ترجیح دینی ہے یا کسی ایک سیاسی جماعت کے مفاد کو۔
مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میرپور کے عوام نے اپنے ووٹ سے پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا، تاہم ان کے بقول انتخابی نتائج میں عوامی رائے کا مکمل احترام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض فیصلوں میں ن لیگ کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس سے کشمیر، پاکستان اور عوامی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی قومی مفاد میں ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے، لیکن کسی سیاسی جماعت کے مفاد کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں صاف، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے تاکہ جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد بحال رہے۔
انہوں نے انٹرنیٹ بندش پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے غلط تاثر پیدا ہوتا ہے اور عوام میں بے چینی بڑھتی ہے۔ ان کے مطابق انتخابی عمل میں شفافیت ہی کشمیر کاز اور جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ انتخابی عمل کے دوران ان کی جماعت کے کارکن کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کے باوجود کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں اور ووٹرز کے حقوق کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود 30 پولنگ اسٹیشنز پر حملوں کے واقعات کیسے پیش آئے۔ ان کے بقول مرحلہ وار انتخابات دھاندلی کے لیے کرائے گئے، اور وہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔







