ملتان کیلئے خریدی گئی الیکٹرک بسیں کہاں گئیں؟ شہریوں کے سوالات پر حکومتی خاموشی

ملتان(نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے بڑے دعوؤں میں شامل الیکٹرک بس منصوبہ ملتان میں تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا جبکہ ملتان کے لیے لائی گئی الیکٹرک بسوں میں سے بعض کو خاموشی سے آزاد جموں و کشمیر منتقل کیے جانے کا الزام سامنے آیا ہے جس پر جنوبی پنجاب خصوصاً ملتان کے شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ملتان کے لیے مختص بسیں کسی دوسرے علاقے میں استعمال کی جا رہی ہیں تو یہ جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہےکیونکہ وہ کئی ماہ سے جدید، ماحول دوست اور سستی سفری سہولت کے منتظر ہیں۔ذرائع کے مطابق ملتان میں ابتدائی طور پر 12 الیکٹرک بسیں پہنچائی گئی تھیں جبکہ پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 45 بسیں فراہم کیے جانے کا منصوبہ تھا تاہم بس شیلٹرز، چارجنگ اسٹیشنز، روٹس کی منظوری اور دیگر انتظامی امور میں تاخیر کے باعث سروس شروع نہ ہو سکی۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ملتان کے عوام کے لیے خریدی گئی بسیں کسی دوسرے علاقے میں استعمال کی جا رہی ہیں تو کیا جنوبی پنجاب کے شہریوں کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ ملتان جیسے بڑے شہر میں عوام روزانہ مہنگی اور غیر معیاری ٹرانسپورٹ استعمال کرنے پر مجبور ہیں جبکہ جدید الیکٹرک بسیں شہر میں چلنے کے بجائے کہیں اور پہنچا دی گئی ہیں۔شہریوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر واضح کیا جائے کہ ملتان کے لیے کل کتنی الیکٹرک بسیں مختص کی گئی تھیں، اس وقت شہر میں کتنی بسیں موجود ہیں، کتنی بسیں آزاد جموں و کشمیر یا کسی اور مقام پر منتقل کی گئیں، ان کی منتقلی کی سرکاری وجوہات کیا ہیںاور ملتان میں الیکٹرک بس سروس کب شروع ہوگی۔ عوام کا کہنا ہے کہ شفافیت کے لیے حکومت کو تمام حقائق سامنے لانے چاہئیں تاکہ جنوبی پنجاب کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو سکے۔اس ضمن میں سیکرٹری آر ٹی اے سے رابطہ کیا تو انہوں نےکہاکہ سوشل میڈیاپرپھیلی ہوئی ایسی خبریں فیک ہیںاورانکاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں