ملتان ( ناصر محمود شیخ )شہرمیں زندہ مرغی اور چکن کے سرکاری نرخوں میں نمایاں کمی کے باوجود ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، شوارمہ شاپس اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں مل رہا۔ سرکاری نرخ تقریباً 400 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود شہر کے بیشتر ہوٹلوں میں چکن کے پکوان 500 1روپے فی کلو یا اس سے بھی زیادہ نرخ پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جب مرغی مہنگی ہوتی ہے تو ہوٹل مالکان فوری طور پر قیمتیں بڑھا دیتے ہیں لیکن جب سرکاری نرخ کم ہوتے ہیں تو وہ قیمتیں کم کرنے کے بجائے منافع خوری جاری رکھتے ہیں۔ اس صورتحال نے صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہےجبکہ متعلقہ سرکاری اداروں کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔عوام کا مطالبہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ محکمے فوری کارروائی کریں، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی قیمتوں کا باقاعدہ آڈٹ کریں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ اگر سرکاری نرخوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہوتا تو نرخ مقرر کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں اشیائے خور و نوش پر بے جا منافع خوری عوام کے ساتھ کھلا استحصال ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ قیمتوں پر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرے تاکہ سرکاری ریلیف واقعی عوام تک پہنچ سکےنہ کہ صرف کاغذوں تک محدود رہے۔







