ملتان: دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث تحصیل جلالپورپیروالا میں زمیندارہ بند ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ بستیاں زیرِ آب آ گئیں جبکہ متعدد خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔
دریا کے کنارے آباد علاقوں میں سیلابی صورتحال کے باعث شہریوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کر دی۔ دوسری جانب دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھنے سے رحیم یار خان کے قریب بند ٹوٹ گیا، جس کے باعث تین دیہات میں سیلابی پانی داخل ہوگیا اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔
ادھر شیخوپورہ میں گاؤں ہڈیالہ ورکاں سمیت کئی بستیاں زیرِ آب آ گئیں، جبکہ تیار فصلیں بھی سیلابی ریلے سے متاثر ہوئیں۔ شدید بہاؤ کے باعث شیخوپورہ۔لاہور ریلوے سیکشن پر ایک پل کو نقصان پہنچا، جس کے بعد لاہور۔فیصل آباد ریلوے روٹ پر متعدد ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ بعض ٹرینوں کے راستے تبدیل کر دیے گئے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ حکام نے گڈو اور سکھر بیراج پر بھی پانی کی سطح میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اسی طرح دریائے چناب میں ہیڈ خانکی، قادرآباد اور تریمو کے مقامات پر بھی نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔
دریاؤں میں بڑھتے ہوئے پانی کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے احتیاطی اقدامات کے تحت صوبہ بھر میں ڈیموں، دریاؤں، نہروں اور جھیلوں میں نہانے اور بغیر اجازت کشتی رانی پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ دفعہ 144 کے نفاذ کے ذریعے عوام سے حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔







