جعلی کمیٹی کے ذریعے فراڈ، اربوں مالیتی 36 ایکڑ اراضی بحریہ ٹاون کے نام منتقل

لاہور ( قوم ریسرچ سیل) کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ نے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت کرکے رائیونڈ روڈ لاہور پر واقع بحریہ آرچرڈ میں موجود گورنمنٹ آفیشل کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی تمام تر اراضی بحریہ ٹاؤن کے نام ٹرانسفر کر دی۔ اس ٹرانسفر کے لیے ایک منفرد طریقہ واردات استعمال کیا گیا اور 2022 میں آج سے چار سال قبل انس محمود نامی اسسٹنٹ رجسٹرار کو اس سوسائٹی کا ایڈمنسٹریٹر لگا دیا گیا۔ اپنے عہدے کا تاج سنبھالنے کے چند ہی دن بعد اس نے محکمے کے نام ایک رپورٹ لکھی کہ وہ ٹریننگ پر جا رہے ہیں اس لیے اس اسامی پر کسی اور کو لگا دیں مگر یہ رپورٹ دبا دی گئی اور چار سال تک کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ نے کسی بھی آفیسر کو انس محمود نامی اسسٹنٹ رجسٹرار کی جگہ پر تعینات نہ کیا۔ اس دوران چار فراڈئیے کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کی آشیر باد اور مبینہ خاموشی کا فائدہ اٹھا کر از خود ہی ایک جعلی کمیٹی بنا کر اس سوسائٹی کے عہدے دار بن گئے اور انہوں نے مکمل طور پر جعلی ریکارڈ تیار کر کے 36 ایکڑ پر مشتمل گورنمنٹ آفیشل کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی تمام تر اراضی بحریہ ٹاؤن کے پروجیکٹ بحریہ آرچرڈ کے نام ٹرانسفر کر دی۔ جب یہ بات منظر عام پرآئی اور پوچھا گیا تو کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ نےیہ موقف اختیار کیا کہ اس میں محکمے کا سرے سے کوئی قصور نہیں بنتا۔ فراڈیوں نے تمام تر جعل سازی کی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وہاں گھر بن چکے ہیں اور جن لوگوں نے کروڑوں روپیہ لگا کر وہاں سینکڑوں کی تعداد میں اپنے گھر بنا لیے۔ اب ان کے پاس ملکیت ہی نہیں رہی اور محکمہ کوآپریٹو کے اہل کار اور افسران متاثرین کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ رجسٹری کو چیلنج کریں۔ عدالت جو فیصلہ کرے اس پر عمل کریں اور معاملہ کھٹائی میں ڈال دیا گیا جس سے لوگوں کے اربوں روپے کھوہ کھاتے چلے گئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں