ملتان (سٹاف رپورٹر) خیبر پختون خوا کے ضلع بنوں سے تعلق رکھنے والے فراڈیے نے دبئی میں بیٹھ کر درجنوں پاکستانیوں کو اربوں روپے سے محروم کر دیا اور آن لائن بزنس کی آڑ میں سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے رجسٹرڈ شدہ کمپنی ظاہر کرکے لوگوں کو چند ماہ منافع دیا اور اس کے بعد اچانک کمپنی بند کرکے سینکڑوں لوگوں کو پائی پائی کا محتاج کر دیا۔ اس شخص کے ہاتھوں لٹنے والوں میں ملتان کے ایک خاندان کا 31 کروڑ روپیہ شامل ہے جو کہ ملتان کے رہائشی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں سے رقم لے کر آن لائن کے اس کاروبار میں انویسٹ کی۔ اس فراڈیے نے باقا عدہ ایک ویب سائٹ’’فاؤنٹین ویسٹ پارٹنرز ڈاٹ ایکس‘‘کے نام سے بنا رکھی تھی جس میں دنیا کے معروف کاروباری لوگوں اور کمپنیوں کے شیئرز ظاہر کر رکھے تھے۔ بنوں میں واقع الائیڈ بینک کی برانچ میں اس نے باقاعدہ اکاؤنٹ کھول رکھا تھا جسے یہ فراڈیہ دبئی میں بیٹھ کر آپریٹ کرتا تھا اور لوگ اسی بینک کے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرواتے تھے، اس نے جعل سازی کرنے کی خاطر 311 افراد پر مشتمل ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنا رکھا تھا اور یہ تمام کے تمام واٹس ایپ تو موجود ہیں مگر ان کے فون نمبر ہی موجود نہیں۔ ان 311 افراد میں سے ایک شخص ملتان کا بھی شامل ہے اور جب وہ تصدیق کرتا تو اسے ہر طرح سے مطمئن کر دیا جاتا۔ اس ملتانی نے سب سے پہلے پانچ لاکھ روپیہ انویسٹ کیا تو چند دنوں بعد اسے 10 لاکھ روپیہ دے دیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد انہوں نے ایک کروڑ 50 لاکھ روپیہ انویسٹ کیا تو انہیں چند دن بعد ایک کروڑ روپیہ منافع دے دیا گیا جس پر اس نے لالچ میں آ کر یک مشت 15 کروڑ کی انویسٹمنٹ کر دی تو اس کے اکاؤنٹ میں 50 لاکھ روپیہ منافع ملا جو کہ(م)نامی انویسٹر نے نکلوا لیا تو اس کے لالچ میں مزید اضافہ ہو گیا اور اس نے مختلف دوستوں سے دس کروڑ روپیہ لے کر مزید انویسٹ کر دیا تو اس کی ٹوٹل انویسٹمنٹ اس جعلی کمپنی میں 25 کروڑ تک پہنچ گئی۔ اسے تھوڑا سا مزید منافع ملا تو اس نے چھ کروڑ مزید انویسٹ کر دیا جونہی یہ رقم 31 کروڑ پر پہنچی تو اچانک کمپنی کی ویب سائٹ بند کر دی گئی۔ متاثرہ شخص نے جب ایس ای سی پی سے معلومات لیں تو ایس ای سی پی کی رجسٹریشن بھی جعلی نکلی اور ایس ای سی پی نے باقاعدہ تصدیق کی کہ اس نام کی کسی کمپنی کی کوئی فائل بھی کبھی رجسٹریشن کے لیے بھی نہیں آئی۔ جب بنوں میں واقع الائیڈ بینک سے معلومات لی گئیں تو معلوم ہوا کہ فائونٹین ویسٹ پارٹنرز ڈاٹ ایکس نامی کمپنی ایک پرائیویٹ بندے کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور یہ ایک سولو اکاؤنٹ ہے کسی کمپنی کا اکاؤنٹ نہیں تاہم الائیڈ بینک انتظامیہ نے پالیسی کے تحت مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا اور نہ ہی اکاؤنٹ ہولڈر کا شناختی کارڈ نمبر اور اکاؤنٹ ہولڈر کا نام بتایا گیا۔ اب ملتان سے تعلق رکھنے والا متاثرہ شخص اپنے خاندان کے 21 کروڑ کے علاوہ دوستوں کے 10 کروڑ روپے دینے کے لیے دھڑا دھڑ اپنی پراپرٹی بیچ رہا ہے مگر پھر بھی یہ رقم پوری نہیں ہو رہی۔







