بھارت سے فلڈ ڈیٹا بند، نئے نظام کی تجویز، بارش سے پنجاب، کے پی میں43 اموات، ملتان،ڈیرہ کو خطرہ

ملتان،لاہور،اسلام آباد،پشاور( سٹاف ر پو ر ٹر ، بیورورپورٹ،نیوزایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) بھا رت سے فلڈڈیٹافراہمی بند ہونے کے باعث سینیٹ کمیٹی نے نئے نظام کی تجویزدے دی۔ دوسری جا نب طوفانی بارشوں سےپنجاب اورخیبرپختونخوامیں اموا ت کی تعداد43ہوگئی،وزیراعلیٰ پنجاب نے اربن فلڈنگ کے باعث ملتان ،ڈیرہ غازی خان کوخطرہ ہونےکےباعث سخت اقدامات کی ہدایت کردی۔تفصیل کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی آبی وسائل کے اجلاس میں سیلابی صورتحال اور مون سون تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بھارت کی جانب سے فلڈ ڈیٹا کی فراہمی بند کردی گئی ہے جس کے بعد متبادل ذرائع سے معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔ کمیٹی نے دریاؤں کی نگرانی کے لیے جدید اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو ملک میں جاری سیلابی صورتحال اور مون سون کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق موجودہ سیلابی صورتحال بارشوں کا نتیجہ ہے، دریائے چناب کے قادرآباد، تریموں اور مرالہ کے مقامات پر ہائی فلڈ جبکہ تربیلا، چشمہ اور دریائے کابل کے نوشہرہ مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، تاہم بیشتر دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔حکام نے بتایا کہ 18 سے 25 جولائی تک ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی ہے، جبکہ گلشیئر جھیل پھٹنے اور فلیش فلڈز کے خطرات بھی موجود ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت کی جانب سے فلڈ ڈیٹا فراہم نہیں کیا جا رہا، تاہم متعلقہ ادارے متبادل ذرائع سے مشرقی دریاؤں کی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق گلشیئرز کی مانیٹرنگ کے لیے جدید ڈیش بورڈ قائم ہے اور بروقت وارننگ جاری کی جا رہی ہے۔کمیٹی نے دریاؤں کی نگرانی کے لیے جدید اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین کمیٹی جام سیف اللہ خان نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے خطرات کے پیش نظر مؤثر نظام ناگزیر قرار دیا جبکہ پنجاب اور سندھ کے سیکریٹریز اریگیشن کی آئندہ اجلاس میں ذاتی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے عدم شرکت پر کارروائی کا انتباہ بھی دیا۔ادھر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مون سون، اربن فلڈنگ، رودکوہی اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انسانی اور مکینکل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں واسا اور دیگر متعلقہ محکموں نے مون سون سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس میں بارشوں، نکاسی آب اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا جبکہ متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔وزیراعلیٰ نے کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو فوری نوٹس لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں جبکہ کھمبوں پر لٹکتے بجلی کے تار شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔انہوں نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری کارروائی، شکایات کے ازالے کا ریکارڈ مرتب کرنے، دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں پر نہانے کی پابندی یقینی بنانے اور ان مقامات کی ڈرون مانیٹرنگ کی ہدایت بھی جاری کی۔مریم نواز شریف نے مساجد، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے بارشوں اور فلڈ کی صورتحال سے متعلق بروقت آگاہی مہم چلانے، مون سون کے دوران تمام تعمیراتی مقامات، مین ہولز، گٹروں اور گڑھوں کو محفوظ بنانے، خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لینے اور خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کو رضاکارانہ طور پر خالی کرانے کی ہدایت کی۔انہوں نے ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں رودکوہی اور اربن فلڈنگ سے متعلق بروقت وارننگ اور انخلاء، مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر پیشگی انخلاء اور سیاحوں کو اعلانات کے ذریعے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔وزیراعلیٰ نے پی ڈی ایم اے، این ڈی ایم اے، واسا، ریسکیو 1122 اور لوکل گورنمنٹ کے درمیان مکمل اشتراک کار، ہر ضلع میں مون سون فلڈ کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال رکھنے، کمرشل، عوامی اور رہائشی علاقوں سے بارشی پانی کی فوری نکاسی اور ضرورت کے مطابق مزید ڈی واٹرنگ سیٹس فراہم کرنے کا حکم دیا۔مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ 41 اضلاع میں واسا کے قیام اور پی ڈی پی منصوبے کے مثبت نتائج سامنے آئے، تمام اضلاع میں ایک ہزار ڈی واٹرنگ سیٹس، سکر مشینیں اور دیگر مشینری فراہم کی گئی۔ دوسری جانب پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات بارے رپورٹ جاری کر دی گئی، حادثات میں اب تک مجموعی طور پر 43 افراد جاں بحق ہوچکے، جبکہ کئی گھر منہدم ہوگئے۔ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے باعث 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، سیلابی ریلے میں بہنے یا پھنسے ہونے سے متعلق کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔رواں سال مون سون کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 2، عمارات گرنے سے 15، کرنٹ لگنے سے 3 اور پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، مون سون بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے جبکہ ایک مویشی ہلاک ہوا۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بارشوں کے باعث اربن و فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مکانات کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے حادثات رونما ہوئے جس میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 23 زخمی ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 9 مرد، 10 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 5 خواتین، 7 بچے شامل ہیں۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے 37 گھر متاثر، 8 مکمل منہدم اور 29 کو جزوی نقصان پہنچا۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر میں پیش آئے، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، ٹانک، تورغر،کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان بھی متاثر ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے مون سون بارشوں کے دوسرے اسپیل کے پیش نظر تمام انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اربن اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق زخمیوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور حکومت کی پالیسی کے تحت جاں بحق افراد کی فیملیز کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد دی جا رہی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے تمام ڈی سیز کو دریاؤں اور ندی نالوں کے پاس دفعہ 144 کا نفاذ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کچے اور مخدوش مکانات میں نہ رہیں اور بچوں کو بجلی کی تاروں، کھمبوں اور نشیبی علاقوں سے دور رکھیں۔ادھربھارتی آبی جارحیت کے بعد ریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل ہونے سے دریائی بیلٹ کے قریب چنیوٹ کی نشیبی بستیوں سے انخلاء کی ہدایات جاری کردیں گئیں۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق 3 لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا خانکی اور قادر آباد سے ہوتا ہوا چنیوت کی حدود میں داخل ہوگا، سیلاںی صورتحال کے پیش نظر فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردئیے۔ آئندہ چند گھنٹوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگا۔حافظ آباد میں ہیڈ قادرآباد کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی چھوڑے جانے کے بعد پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک پانی کی آمد جبکہ 2 لاکھ 30 ہزار 234 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہےجس کے باعث یہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ننکانہ صاحب میں دریائے راوی ہیڈ بلوکی کے مقام پر پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی ہے، جہاں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہیڈ بلوکی پر پانی کی آمد 73 ہزار 625 کیوسک جبکہ اخراج 50 ہزار 725 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے دریائے راوی کے کنارے آباد شہریوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد اپنے اہل خانہ، مویشیوں اور ضروری سامان کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں