رحیم یار خان میں پولیس گردی، نجی ٹارچر سیل میں شہری ہلاک، ورثا کا دھرنا، تھانیدار گرفتار

رحیم یار خان (نمائندہ خصوصی) پولیس کی تحویل میں 40 سالہ شہری کی مبینہ تشدد سے ہلاکت کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ واقعہ پر ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج‘ مقتول محمدامجد کی نعش نہ ملنے پر مشتعل ورثا اور اہل علاقہ نے احتجاجاً رحیم یار خان سے خان پور جانے والی مرکزی کوٹ سمابہ سڑک بلاک کرکے دھرنا دےدیا‘ دونوں اطراف ٹریفک کی روانی شدید متاثر۔ تفصیل کے مطابق تھانہ کوٹ سمابہ کی حدود میں 40 سالہ محمد امجد کی پولیس تحویل میں تشدد کے بعد مبینہ ہلاکت کے بعد ورثا نے انصاف کے مطالبے کیلئے احتجاج شروع کردیا۔ پیپلزلاءزر فورم کے ضلعی صدر مرزا امین خان ایڈووکیٹ کی قیادت میں لواحقین اور اہل علاقہ نے مرکزی کوٹ سمابہ روڈ پر دھرنا دیتے ہوئے واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی اورمقتول محمدامجد کی نعش ورثاء کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عرفان علی سموں نے ایس ایچ او سید نقاش رضا‘ ایس آئی مقبول عباسی‘ تفتیشی افسر سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پولیس نے ایس ایچ او نقاش رضا کو گرفتار کرکے تھانہ صدر کی حوالات میں منتقل کردیا جبکہ تھانہ کوٹ سمابہ میں ملک رشید نائچ کو نیا ایس ایچ او تعینات کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے اور دیگر نامزد و نامعلوم اہلکاروں کی گرفتاری کیلئے کارروائی جاری ہے۔ ڈی پی او عرفان علی سموں کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں‘ شہریوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ورثا کے مطابق محمد امجد 19 جولائی کو کوٹ سمابہ کی رہائشی صوبیہ مائی کے ہمراہ 8سالہ عائشہ بی بی کی موت سے متعلق مقدمہ کی پیروی کیلئے تھانہ گئے تھے۔ ان کا موقف ہے کہ پولیس خاتون کو موقع ملاحظہ کیلئے اپنے ساتھ لے گئی جبکہ محمد امجد کو تھانے میں روک لیا گیا۔ بعد ازاں خاتون واپس آئی تو انہیں بتایا گیا کہ محمد امجد گھر چلے گئے ہیں تاہم وہ گھر نہ پہنچ سکے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ محمد امجد کو غیر قانونی طور پر نجی ٹارچرسیل میںحراست میں رکھ کر مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث ان کی موت واقع ہوئی۔ ورثا نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ واقعے کو چھپانے اور موت کو حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس پی انوسٹی گیشن شاہد نذیر‘ ڈی ایس پی صدر سرکل حاجی اسلم جٹ اور بعد ازاں ڈی پی او عرفان علی سموں تھانہ کوٹ سمابہ پہنچے جہاں متاثرہ خاندان‘ پولیس اہلکاروں اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ دریں اثنا تھانہ کوٹ سمابہ پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد کے بعد لاپتہ ہونےوالے شہری محمدامجد کی ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔پولیس نے ملزم ایس ایچ اوکی نشاندہی پر مقتول کی لاش برآمد کر لی جبکہ مقدمے کے مرکزی ملزم ایس ایچ او تھانہ کوٹ سمابہ سمیت متعدد افراد اور چند مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزم کی نشاندہی پر مقتول امجد کی لاش تھانہ صدر صادق آباد کی حدود میں واقع بستی رانجھا خان کے کھیت سے برآمد کر لی۔ نعش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کےلئے تحویل میں لیکرشیخ زاید ہسپتال منتقل کردیاگیا۔پولیس ذرائع کے مطابق اس مقدمے میں مرکزی ملزم ایس ایچ او تھانہ کوٹ سمابہ سمیت واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث متعدد افراد اور چند مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں