ترنڈہ : انفورسمنٹ انسپکٹر کا کارنامہ ،تجاوزات مقدمے میں نابینا نوجوان نامزد

ٹھل حمزہ(کرائم رپورٹر) ترنڈہ محمد پناہ میں انفورسمنٹ انسپکٹر ممتاز احمد کا انوکھا کارنامہ ،تجاوزات کے مقدمے میں پیدائشی نابینا نوجوان کو نامزد کردیا گیا ،،غریب نابینا نوجوان اور والدین پریشان ،انفورسمنٹ انسپکٹر کی نااہلی اور مبینہ غفلت پر سوالات اٹھنے لگے۔تفصیل کے مطابق انفورسمنٹ انسپکٹر ممتاز احمد کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں نابینا نوجوان پر سڑکوں پر ناجائز قبضہ جمانے، سرکاری عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے اور حکومت کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد نابینا نوجوان اور اس کا غریب والد انتظامیہ کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔متاثرہ نابینا نوجوان کا کہنا ہے میرا والد مجھے ریڑھی پر بٹھا کر کسی کام سے گیا تھا کہ پیرا فورس آئی اور مجھے یونین کونسل لے گئی۔ وہاں مجھ سے نام وغیرہ پوچھے گئے اور کہا گیا کہ آپ کو وزیراعلیٰ مریم نواز کے ماڈل بازار میں ریڑھی دیں گے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ میرے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ نوجوان کے والد نے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے خوبصورت ریڑھی ملے گی لیکن ریڑھی تو نہ ملی، الٹا ہم پر پرچہ کٹوا دیا گیا۔نابینا نوجوان اور اس کے والد نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، غریب خاندان کو انصاف فراہم کرنے اور بے بنیاد مقدمہ فوری خارج کرنے کی اپیل کردی ۔دوسری جانب انفورسمنٹ انسپکٹر ممتاز احمد کا موقف ہے مجھے علم نہیں تھا کہ ساجد نابینا ہے۔ عملے نے لسٹ بنا کر دی میں نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کروا دیا ,مزید تحقیقات کررہے ہیں ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں