بی زیڈ یو، بی ایس بائیو “ٹیکنالوجیا” داخلے، 123 فیصد نمبر والا امیدوار سر فہرست 4 کروڑ کا سسٹم ناکام

ملتان(سٹاف رپورٹر ) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں داخلوں کے نظام پر اس وقت سوالات کھڑے ہو گئے جب بی ایس بائیوٹیکنالوجی 2026 کی میرٹ لسٹ میں فارم نمبر 134815 کے حامل امیدوار براج احمد ولد عبدالرشید کو پہلے نمبر پر ظاہر کیا گیا جبکہ میرٹ لسٹ کے مطابق امیدوار کے ایف ایس سی امتحان کے حاصل کردہ نمبر سو فیصد میں سے 123 فیصد درج ہیں جو کہ پاکستان کے نظام تعلیم کی تاریخ کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق کسی بھی امتحان میں 100 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنا ہی ناممکن ہے، اس لیے 123 فیصد نمبر ظاہر ہونا نہ صرف ایک تکنیکی خامی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ پورے داخلہ نظام کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی نے ماضی میں جدید لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) کی خریداری پر تقریباً چار کروڑ روپے خرچ کیےتاہم یہ نظام اس بنیادی مرحلے پر ہی ناکام دکھائی دیا جہاں اسے 100 فیصد سے زائد نمبر قبول ہی نہیں کرنے چاہئے تھے۔ حیران کن طور پر سسٹم نے 123 فیصد نمبر قبول کیے، امیدوار کو میرٹ میں شامل کیا اور اسے پہلی پوزیشن تک پہنچا دیا۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ میرٹ لسٹ جاری ہونے کے باوجود ایڈمیشن سے متعلقہ کسی افسر نے اس شرمناک غلطی کی نشاندہی نہیں کی۔ نہ داخلہ برانچ نے، نہ ایڈمیشن آفس نے نہ متعلقہ شعبے کے چیئرپرسن نے اور نہ ہی کنٹرولر امتحانات تک نے اس غیر معمولی خامی کو بروقت درست کرنے کی ضرورت محسوس کی البتہ وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر غوری نے اس پر انکوائری کمیٹی قائم کرکے ارجنٹ رپورٹ طلب کر لی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اتنی واضح اور بنیادی غلطی بھی نظر انداز ہو سکتی ہے تو دیگر امیدواروں کے میرٹ، ڈیٹا اور داخلہ عمل کی درستگی پر بھی سنگین خدشات جنم لیتے ہیں۔ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، میرٹ لسٹ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور چار کروڑ روپے کے سسٹم کا مکمل تکنیکی آڈٹ کرایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ واضح رہے کہ اگر یہ معلومات درست ہیں تو یہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ تصور کیا جا رہا ہے، جہاں 100 فیصد سے زیادہ نمبر رکھنے والے امیدوار کو میرٹ لسٹ میں شامل کر دیا گیاجبکہ کسی سطح پر اس بنیادی غلطی کی نشاندہی یا تصحیح نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں داخلوں کے ذمہ داران میں انچارج سنٹرل ایڈمشن سیل اور ایڈمیشن کمیٹی بھی شامل ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں