اسلام آباد،تہران،واشنگٹن(بیورورپورٹ، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے یمنی حوثیوں کوانتباہ کرتےہوئےکہاہےکہ سعودی عرب اور تجارتی بحری جہازوں کو دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں۔ادھر امریکی افواج کی ایران پر مسلسل 11 ویں دن بھی بمباری جاری رہی،امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیونے کہا ہےکہ ایران سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ایران نے کویت اور بحرین پر خودکش ڈرون حملے کئے۔تفصیل کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی دھمکیوں اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات پر سخت اور واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت سعودی عرب کی سلامتی، بحری راستوں کے تحفظ اور خطے کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری پالیسی بیان میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو دی جانے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔بیان میں پاکستان نے خطے کے استحکام، بحری سلامتی، عالمی تجارت کے تحفظ اور اپنے خودمختار مفادات کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیاکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ایک مقامی یمنی شورش پسند گروہ سے بڑھ کر ایک علاقائی غیر ریاستی قوت میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس نے بحیرہ احمر کو جغرافیائی سیاست اور بحری دباؤ کے ایک اہم میدان میں بدل دیا ہے۔بیان کے مطابق تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور سعودی عرب کو دھمکیاں دینا صرف علاقائی سلامتی کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں بلکہ یہ آزادی جہاز رانی، عالمی سپلائی چین اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کو بھی براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔پاکستان نے اپنے مؤقف میں کہاکہ سعودی عرب کی سلامتی پورے خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاض کی سرزمین اور بحری تجارت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جو علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔پاکستان نے واضح کیاکہ وہ تجارتی جہاز رانی کے خلاف ہر قسم کی دھمکی کو یکسر مسترد کرتا ہے اور مملکت سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ سلامتی اور کئی دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون پر استوار ہیں، اس لیے پاکستان کی حمایت صرف دوطرفہ یکجہتی کا اظہار نہیں بلکہ ایک دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار کی سلامتی کے لیے اس کے عزم کی بھی عکاس ہے۔پاکستان نے خبردار کیاکہ پاکستانی پرچم بردار کسی بھی بحری جہاز یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کے خلاف براہ راست خطرہ تصور کیا جائے گا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسی کسی بھی صورت حال میں پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کے فطری اور قانونی حق کو بروئے کار لانے کا اختیار محفوظ رکھتا ہے۔پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار علاقائی ریاست قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے مؤثر دفاعی حکمت عملی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور مذاکرات کو خطے میں امن، بحری سلامتی اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کا بہترین ذریعہ سمجھتا ہے۔بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر مشرق وسطیٰ میں امن، محفوظ بحری راستوں، بلا تعطل عالمی تجارت اور خطے کے پائیدار استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہےگا۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ان کی فورسز نے مسلسل گیارہویں رات ایران میں فوجی اہداف پر حملے شروع کیے ہیں۔ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ ایران پر جاری ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کے شہر تبریز کے مغرب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ جنوبی ایران کےعلاقے سیریک کے اطراف میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران کے شہروں کرمانشاہ، بوشہر اور خوزستان سے بھی امریکی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی۔ٹرمپ نے کہا نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملہ جلد ہوگا، ایرانی اس حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کرسکیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ اگر انہوں نے بارک اوباما اور ایران کے درمیان ہوئی نیوکلیئر ڈیل ختم نہ کی ہوتی تو آج دنیا میں اسرائیل کا وجود باقی نہ ہوتا۔ کیوں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا۔ دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری کمان نے خبر دار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا بریگیڈ نے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کا باعث بنے گا۔ ادھر ایران کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں امریکا کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے جواب میں کی گئیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن کے شہر ازرق میں واقع مووفق السلطي ایئر بیس پر صبح کے وقت ڈرون حملہ کیا گیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں امریکی فوج کی رہائشی اور فلاحی عمارتوں کے ساتھ ساتھ سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بعد ازاں بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر بھی آرش خودکش ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ایرانی فوج کے مطابق اس حملے میں امریکی فوج کے آلات رکھنے والے گوداموں اور طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہونے والے ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم امریکا، بحرین یا اردن کی جانب سے ان حملوں یا ان کے ممکنہ نقصانات کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ۔







