ملتان (سٹاف رپورٹر )پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس سکولوں کی تعمیر، سرکاری اخراجات، سکول مینجمنٹ کمیٹیوں (SMCs) کے کردار، نامکمل تعمیراتی منصوبوں اور مبینہ کمیشن کلچر پر سخت سوالات کی زد میں آ گیا۔ اجلاس کے دوران ارکان نے ایسے انکشافات اور اعتراضات اٹھائے جنہوں نے محکمہ تعلیم کے تعمیراتی نظام پر کئی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے۔اجلاس میں سب سے زیادہ توجہ اس دعوے نے حاصل کی کہ ایک ایسا سکول کمرہ جو سکول مینجمنٹ کمیٹیوں اور مقامی افراد کے تعاون سے تقریباً 12 لاکھ روپے میں تعمیر کیا جا رہا تھا وہی کمرہ بعد ازاں سرکاری تعمیراتی نظام کے ذریعے 33 لاکھ روپے بلکہ بعض ارکان کے مطابق 28 سے 40 لاکھ روپے تک کی لاگت میں تعمیر ہونے لگا۔ارکان نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسا کون سا معجزہ یا سرکاری طریقہ کار ہے جس کے باعث ایک ہی ڈیزائن اور معیار کا کمرہ چند ہی برسوں میں تقریباً تین گنا مہنگا ہو گیا۔ کمیٹی کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ اس غیر معمولی فرق کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ اضافی رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے۔اجلاس میں سابقہ ماڈل کا دفاع کرتے ہوئے متعدد ارکان نے کہا کہ سکول مینجمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے تعمیرات کا مقصد صرف کم لاگت میں کام مکمل کرنا نہیں تھا بلکہ مقامی آبادی کو اپنے سکولوں کی ترقی میں شریک کرنا بھی تھا۔ ان کے مطابق دیہات اور محلوں کے لوگوں نے چندہ جمع کیا، سامان فراہم کیا، اپنی مدد آپ کے تحت تعمیراتی کام مکمل کیے اور بعض جگہ اپنی جیب سے اضافی رقم بھی لگائی تاکہ سکولوں کے بچوں کو بہتر سہولیات مل سکیں۔ایک رکن نے کہا کہ یہ غیر روایتی نظام بعض لوگوں کو اس لیے ہضم نہیں ہوا کیونکہ اس سے روایتی کمیشن کلچر متاثر ہو رہا تھا۔ ان کے بقول جب مقامی کمیٹیاں کام کر رہی تھیں تو لاکھوں روپے کی بچت ہو رہی تھی، لیکن جیسے ہی تعمیرات دوبارہ روایتی سرکاری نظام کے حوالے ہوئیں، اخراجات میں غیر معمولی اضافہ سامنے آ گیا۔کمیٹی میں یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا کہ متعدد سکولوں میں دیواریں اور کمرے ادھورے چھوڑ دیے گئے ہیں۔ ارکان نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کی یقین دہانی پر ہیڈ ماسٹروں، اساتذہ، مقامی مخیر حضرات اور دیہاتیوں نے قرض لے کر، سامان اکٹھا کرکے اور اپنی ذاتی حیثیت میں تعمیراتی کام شروع کر دیامگر بعد میں محکمہ نے ادائیگیاں روک دیں جس کے باعث سینکڑوں منصوبے نامکمل رہ گئے۔اجلاس میں ایک رکن نے اپنے حلقے کے سکول کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ آج بھی ایک سکول میں نصف دیوار تعمیر شدہ ہے جبکہ باقی حصہ کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے کیونکہ فنڈز روک دیئے گئےہیں۔ ان کے مطابق ایسے صرف ایک دو نہیں بلکہ درجنوں بلکہ سینکڑوں منصوبے پورے پنجاب میں موجود ہیں۔اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر حکومت کو سکول مینجمنٹ کمیٹیوں پر اعتماد ہی نہیں تو پھر انہیں قائم رکھنے کا مقصد کیا ہے؟ ارکان نے کہا کہ یہی کمیٹیاں سکول کے بچوں، اساتذہ اور مقامی لوگوں پر مشتمل ہوتی ہیں جن کا مفاد براہ راست سکول سے وابستہ ہوتا ہے، اس لیے وہ کسی بھی بیرونی ٹھیکیدار سے زیادہ دلچسپی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرتی ہیں۔دوسری جانب سیکرٹری تعلیم نے واضح کیا کہ موجودہ نظام میں تعمیراتی لاگت بڑھنے کی وجہ پیپرا قوانین، ٹیکنیکل سینکشن، تھرڈ پارٹی ویریفکیشن، آڈٹ، سیلز ٹیکس اور دیگر قانونی تقاضے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہر منصوبہ مکمل تکنیکی جانچ اور منظور شدہ قواعد کے تحت مکمل کیا جاتا ہے، اس لیے پرانے اور موجودہ اخراجات کا براہ راست موازنہ درست نہیں۔تاہم کمیٹی کے متعدد ارکان اس وضاحت سے مطمئن دکھائی نہیں دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام اتنا مضبوط اور شفاف ہے تو پھر ایسے کئی سرکاری منصوبے کیوں موجود ہیں جو مکمل تکنیکی منظوری کے باوجود معمولی بارش برداشت نہ کر سکے۔اجلاس کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ حکومت نے پہلے خود سکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو اختیار دیا، ان کی حوصلہ افزائی کی، ان کے ذریعے تعمیرات کروائیں اور ان کی کامیابیوں کے دعوے کیےلیکن بعد ازاں انہی منصوبوں پر اعتراضات اٹھا کر ادائیگیاں روک دی گئیں، جس سے مقامی لوگوں کا ریاست پر اعتماد مجروح ہوا۔کمیٹی کے بعض ارکان نے دعویٰ کیا کہ پرانے نظام میں مختلف محکموں میں مبینہ غیر رسمی ادائیگیوں اور کمیشن کی شکایات ختم ہونے لگی تھیں لیکن جیسے ہی روایتی طریقہ کار بحال ہوا، دوبارہ وہی سوالات جنم لینے لگے۔ ارکان نے اس پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی کم لاگت میں معیاری تعمیر ممکن تھی تو پھر اس ماڈل کو ختم کرنے سے آخر فائدہ کس کو پہنچا؟بحث کے دوران ایک اور اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ اگر سکول مینجمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے تعمیرات تکنیکی اعتبار سے ناقص تھیں تو ان کی نگرانی اور منظوری کے لیے حکومت نے پہلے سے جو طریقہ کار، تھرڈ پارٹی ویریفکیشن اور انجینئرنگ نگرانی مقرر کی تھی، وہ کیوں مؤثر ثابت نہ ہو سکی۔طویل بحث کے بعد قائمہ کمیٹی نے اس حساس معاملے کو آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں دوبارہ شامل کرنے پر اتفاق کیا تاکہ محکمہ تعلیم، محکمہ تعمیرات اور متعلقہ حکام سے تفصیلی بریفنگ لے کر یہ تعین کیا جا سکے کہ تعمیراتی اخراجات میں غیر معمولی اضافے، ادھورے منصوبوں، روکی گئی ادائیگیوں اور سکول مینجمنٹ کمیٹیوں کے کردار سے متعلق اصل حقائق کیا ہیں۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس نے یہ واضح کر دیا کہ پنجاب میں سکولوں کی تعمیر، فنڈز کے استعمال اور تعمیراتی نظام کی شفافیت کا معاملہ اب ایک اہم عوامی اور پارلیمانی بحث بن چکا ہےجس پر آئندہ اجلاسوں میں مزید سخت سوالات اٹھنے کا امکان ہے۔







