مریم نواز کے فلیگ شپ منصوبے “ستھرا پنجاب” پر کرپشن کا داغ، تنخواہ پر ہاتھ صاف

ڈیرہ غازی خان(ڈسڑکٹ رپورٹر ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے فلیگ شپ منصوبے’’صاف ستھرا پنجاب‘‘ کو مبینہ بدانتظامی، ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر اور انتظامی بے حسی نے شدید سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ منصوبے کے سینکڑوں صفائی اہلکاروں نے دو ماہ کی تنخواہوں اور عید بونس کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ دن رات ڈیرہ غازی خان شہر کی صفائی کے فرائض انجام دیتے ہیںمگر انہیں اپنی ہی محنت کا معاوضہ بروقت نہیں مل رہا۔ ان کے مطابق دو ماہ سے تنخواہیں اور عید بونس روک لیے گئے ہیں، جس کے باعث گھروں کے بجلی کے میٹر منقطع ہونے کے قریب ہیں، راشن ختم ہو چکا ہے اور بچوں کا پیٹ پالنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ملازمین نے کہا کہ اگر احتجاج نہ کریں تو انتظامیہ ان کی آواز سننے کو تیار نہیں ہوتی، اسی لیے وہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئے۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ منصوبے کے تحت مختلف ملازمین کو 31 ہزار، 35 ہزار اور 38 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے، لیکن اگر کسی مجبوری کے باعث صرف ایک دن کی چھٹی ہو جائے تو پانچ ہزار روپے تک تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے، جسے انہوں نے غیر منصفانہ اور مزدور دشمن پالیسی قرار دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اس معاملے کی بھی فوری تحقیقات کر کے غیر قانونی کٹوتیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ملازمین کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے یہ منصوبہ شروع کیا، مگر مقامی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور ناقص انتظامی امور اس منصوبے کی کامیابی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ تنخواہوں اور عید بونس کی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، ایک دن کی چھٹی پر پانچ ہزار روپے کٹوتی کے معاملے کی چھان بین کی جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔دوسری جانب انتظامیہ نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں چیکوں سے متعلق ایک تکنیکی مسئلہ درپیش تھا، جسے حل کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق بہت جلد تمام چیک کلیئر ہو جائیں گے اور ملازمین کو ان کی واجب الادا تنخواہیں اور دیگر واجبات ادا کر دیے جائیں گے۔تاہم احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ انتظامیہ کی یقین دہانیوں سے پہلے بھی کئی مرتبہ گزر چکے ہیں اور اب وہ عملی اقدامات اور بروقت ادائیگی کے منتظر ہیں تاکہ ان کے گھریلو مسائل کا خاتمہ ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں