گندم بحران: پنجاب، سندھ کے پی نے وفاق کے ذخائر مانگ لئے، رحیم یار خان میں ہزاروں ٹن خفیہ سٹاک

رحیم یارخان (بشیر احمد چوہدری سے) ملک میں رواں برس گندم کی سرکاری خریداری کے حوالے سے بروقت اور مؤثر فیصلے نہ ہونے کے باعث گندم کا بحران پیچیدہ صورت اختیار کرنے لگا ہے، پنجاب،سندھ ،کےپی نے وفاق سے ذخائرمانگ لئے،ملکی سطح پر تقریباً 2 کروڑ 98 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار کے دعوئوں کے باوجود طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق نے مستقبل میں گندم کی دستیابی کو بڑا چیلنج بنا دیا ہے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے وفاقی ذخائر
سے 10 لاکھ ٹن گندم طلب کئے جانے کے بعد گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نگرانی کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق ضلع رحیم یارخان میں گندم کی ذخیرہ اندوزی کا ایک بڑا نیٹ ورک مبینہ طور پر سرگرم ہےجہاں ضلع بھر کی 88 فعال و بند فلور ملوں کے گردونواح اور ان سے منسلک مبینہ نجی ذخیرہ گاہوں میں سینکڑوں ہزاروں ٹن گندم ذخیرہ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رواں سیزن کے دوران بعض بڑے فلور ملزگاڈ فادرزاور گندم کے کاروبار سے وابستہ بااثر عناصر نے 2800 سے 3000 روپے فی من کے حساب سےضلع رحیم یارخان سمیت جنوبی پنجاب کے اضلاع راجن پور،ڈی جی خان،بہاولپور،بہاولنگر،لودھراں سے بڑی مقدار میں گندم خریدی اور اسے سرکاری نگرانی کے دائرے سے باہر رکھنے کے لئے مختلف مقامات پر منتقل کردیا۔ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر گندم کو صرف ضلع رحیم یارخان کی فلور ملوں تک محدود رکھنے کے بجائے ضلع بھر کے بند کارخانوں، کرائے کے گوداموں، آئل ملوں، رائس ملوں، جننگ فیکٹریوں، پیسٹی سائیڈ کمپنیوں اور دیگر صنعتی یونٹس میں ذخیرہ کیا گیا جس کا مقصد مبینہ طور پر گندم کے اصل ذخائر کو چھپانا اور مستقبل میں مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے کی صورت میں منہ مانگے داموں فروخت کرنا ہوسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم ذخیرہ کرنے کے اس مبینہ منظم طریقہ کار کے باعث سرکاری اداروں کے لئے اصل ذخائر کا تعین کرنا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع رحیم یارخان کے فلورملرز جن کا تعلق چیمبر آف کامرس سمیت انجمن تاجران سمیت دیگر بڑی کاروباری تنظیموں سے ہے نےمبینہ طور پر گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے لئے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہےجو ضلع رحیم یارخان سمیت پنجاب اور ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے، جس میں فلور ملز کے علاوہ نجی گوداموں اور مختلف صنعتی اداروں کے گوداموں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ مبینہ طور پر مختلف مقامات پر گندم کے ذخائر چھپا کر رکھے گئے ہیں تاکہ ضرورت کے وقت اسے مارکیٹ میں لایا جا سکے۔ اس صورتحال نے نہ صرف گندم کی حقیقی دستیابی پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں بلکہ مستقبل میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بھی بڑھا دیئے ہیں۔دوسری جانب گندم کی سرکاری خریداری کے حوالے سے بھی کسانوں، فلور ملز اور حکومتی اداروں کے درمیان پالیسی کے فقدان پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے رواں برس گندم کی خریداری کے حوالے سے بروقت اور واضح فیصلہ نہ ہونے کے باعث گندم کی مارکیٹ پر نجی شعبے کا اثر و رسوخ بڑھا، جس کا مبینہ فائدہ بڑے خریداروں اور ذخیرہ اندوزوں نے اٹھایا۔ اب پنجاب حکومت کی جانب سے وفاقی ذخائر سے 10 لاکھ ٹن گندم طلب کئے جانے نے حکومتی پالیسی اور گندم کے سرکاری ذخائر کی صورتحال کو مزید موضوع بحث بنا دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر رحیم یارخان سمیت جنوبی پنجاب میں موجود گندم کے حقیقی ذخائر کا فوری طور پر غیرجانبدارانہ اور شفاف سروے کرایا جائے تو گندم کے ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے اہم حقائق سامنے آسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے صرف فلور ملوں کا ریکارڈ چیک کرنے کے بجائے بند کارخانوں، نجی گوداموں، آئل ملوں، رائس ملوں، جننگ فیکٹریوں اور دیگر صنعتی یونٹس میں موجود گندم کے ذخائر کی بھی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ خوراک، پیرا فورس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے گندم کے ذخائر کی نگرانی کے باوجود اگر بڑے پیمانے پر گندم مختلف نجی مقامات پر منتقل ہونے کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ سرکاری نگرانی کے نظام کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت گندم کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لئے فوری طور پر ضلع رحیم یارخان سمیت پورے پنجاب میں گندم کے ذخائر کا گرینڈ سروے کرائے اور تمام فلور ملوں، گوداموں اور نجی ذخیرہ گاہوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گندم کے مبینہ ذخائر سامنے لانے کے لئے فلور ملوں کے علاوہ ان مقامات کی بھی خفیہ نگرانی ضروری ہے جہاں صنعتی یا تجارتی سرگرمی نہ ہونے کے باوجود گندم کے ٹرکوں کی آمدورفت کی اطلاعات ہیں۔ اگر متعلقہ ادارے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گندم کے حقیقی ذخائر کا سراغ لگا لیں تو نہ صرف مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوششوں کو روکا جا سکتا ہے بلکہ آئندہ چند ماہ میں آٹے کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں گندم کی پیداوار تقریباً 2 کروڑ 98 لاکھ ٹن ہوئی ہے اور پنجاب کو وفاقی ذخائر سے 10 لاکھ ٹن گندم طلب کرنا پڑ رہی ہے تو پھر گندم کے سرکاری اور نجی ذخائر کی حقیقی صورتحال کیا ہے؟ رحیم یارخان میں مبینہ طور پر چھپائے گئے گندم کے ذخائر کہاں ہیں، ان کی مقدار کتنی ہے اور کیا متعلقہ اداروں کے پاس ان ذخائر کا مکمل ریکارڈ موجود ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات گندم کے ممکنہ بحران کی اصل تصویر واضح کرسکتے ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رحیم یارخان میں گندم کی مبینہ ذخیرہ اندوزی کے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے، تمام فعال و بند فلور ملوں، نجی گوداموں اور صنعتی یونٹس میں موجود گندم کے ذخائر کی انسپکشن کرائی جائے اور گندم کے اصل ذخائر، خریداری، منتقلی اور ذخیرہ اندوزی کا مکمل ریکارڈ منظرعام پر لایا جائے، تاکہ گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کو مہنگا آٹا فروخت کرنے کے کسی بھی ممکنہ منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے۔دوسری جانب ملک میں رواں برس گندم کی صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جہاں تین صوبوں نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاق سے گندم فراہم کرنے کی درخواست کر دی۔ذرائع کے مطابق وفاقی ذخائر بھی محدود ہونے کے باعث گندم درآمد کیے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، پنجاب نے وفاقی ذخائر سے 10 لاکھ ٹن گندم طلب کی ہے، جبکہ سندھ نے پاسکو کے گوداموں سے 2 لاکھ 20 ہزار ٹن گندم مانگی ہے۔اسی طرح خیبر پختونخوا نے سرکاری شعبے کی ضروریات کے لیے ایک لاکھ ٹن گندم کی درخواست دی ہے، جبکہ نجی شعبے کے لیے مزید 7 لاکھ ٹن گندم کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ نے پنجاب سے گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت آسان بنانے کا مطالبہ بھی کیا، تاہم پنجاب نے اپنی داخلی ضروریات کا جواز پیش کرتے ہوئے یہ درخواست مسترد کر دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں تقریباً 2 کروڑ 98 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار کے باوجود طلب اور رسد کے فرق کے باعث گندم کی دستیابی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جس کے پیش نظر وفاقی حکومت کو درآمدات پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں